Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
گو جان کر تجھے سب تعبیر کر رہے ہیں
یوں قیدیوں سے کب تئیں ہم تنگ تر رہیں
دل کو لکھوں ہوں آہ وہ کیا مدعا لکھوں
جب سے ہے اس کی ابروے خمدار درمیاں
اتفاق ایسا ہے کڑھتے ہی سدا رہتے ہیں
باغ گو سبز ہوا اب سر گلزار کہاں
اے مجھ سے تجھ کو سو ملے تجھ سا نہ پایا ایک میں
اگرچہ اب کے ہم اے ابر خشک مژگاں ہیں
جور کیا کیا جفائیں کیا کیا ہیں
فراق آنکھ لگنے کی جا ہی نہیں
دل لے کے کیسے کیسے جھگڑے مجادلے ہیں
محبت نے کھویا کھپایا ہمیں
جنوں نے تماشا بنایا ہمیں
کیا عبث مجنوں پئے محمل ہے میاں
<<
1
...
325
326
327
328
329
330
331
332
333
334
335
...
701
>>