Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
ٹک ٹھہرنے دے تجھے شوخی تو کچھ ٹھہرایئے
پر نہیں جو اڑ کے اس در جایئے
ان دلبروں کو دیکھ لیا بے وفا ہیں یے
شوق ہم کو کھپائے جاتا ہے
کبھو میر اس طرف آکر جو چھاتی کوٹ جاتا ہے
چمن کو یاد کر مرغ قفس فریاد کرتا ہے
جب نسیم سحر ادھر جا ہے
کچھ بات ہے کہ گل ترے رنگیں دہاں سا ہے
طپش سے رات کی جوں توں کے جی سنبھالا ہے
چھاتی جلا کرے ہے سوز دروں بلا ہے
دل بیتاب آفت ہے بلا ہے
شور میرے جنوں کا جس جا ہے
کئی برسوں جگر کا ہی لہو اپنا پیا ہے
کس غم میں مجھ کو یارب یہ مبتلا کیا ہے
<<
1
...
337
338
339
340
341
342
343
344
345
346
347
...
701
>>