سائٹ کا نقشہ
- جذبوں کے تن پہ آئے ہوئے زخم چھیل کے
- شب کی دیوار گرا دی ہے شفق زادی نے
- بھُٹو تُم سے نہیں مرے گا
- میں نے دیکھا ہے اُس کی آنکھوں مِیں
- سازشوں کی زد میں !
- پہنا ہے اس نے شوق سے جو پیرہن سفید
- یوں بھی چھپتا ہے بھلا، وجد میں آیا ہُوا رنگ؟
- نیند کی شان بڑھائے تو مزہ آ جائے
- واسطہ پڑ گیا اذیت سے
- خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ
- میں جب احساس کے شہر میں پہنچا تو
- چھمن کا فسانہ!
- گہرے پانیوں والی آنکھیں !
- جب ہم تھے جاں بلب تو شفا کی خبر ملی
