Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
کچھ درد ہے مطربوں کی لے میں
کیوں نہ اڑ جائے مرا خواب ترے کوچے میں
بچتے ہیں اس قدر جو اُدھر کی ہوا سے ہم
مطبوع یار کو ہے جفا اور جفا کو ہم
یوم مزدور
تو میرا عشق ہے
یوں خبر کسے تھی میری تری مخبری سے پہلے
افروز عالم:عہد حاضر کا ایک حساس شاعر
ٹھوکر سے فقیروں کی دنیا کا بکھر جانا
تو میری نیندیں تلاشتا ہے یہی بہت ہے
دشمنوں کو مرے ہم راز کرو گے شاید
گزرے لمحات کا احساس ہوا جاتا ہے
شبنم کی طرح صبح کی آنکھوں میں پڑا ہے
جگر کو خون کئے دل کو بے قرار ابھی
<<
1
...
193
194
195
196
197
198
199
200
201
202
203
...
701
>>