Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
غم غلط کرنے کو احباب ہمیں جانبِ باغ
جفا و جور کا اس سے گلہ کیا
ہائے یہ خُود ساختہ معیارات
کھا کے سوکھی روٹیاں
ریس کورس سے تانگے تک
انسانی تقدس ۔ سوشل میڈیا کے نرغے میں
جتنا بھی ہو گہرا پیار سہیلی سے
دل تو بس خواہشات کرتا ہے
کچھ خبر ہوتی نہیں مےکش کو اپنی ذات کی
داستانِ عشق میری کچھ نہیں ہے دوستو
دیپِ اُلفت مجھے جلانا ہے
مانا سحر کو یار اسے جلوہ گر کریں
شکوہ جفا کا کیجے تو کہتے ہیں کیا کروں
روز خوں ہوتے ہیں دو چار ترے کوچے میں
<<
1
...
192
193
194
195
196
197
198
199
200
201
202
...
701
>>