- Advertisement -

ادھر بھی دیکھیے دیدہ ورانٍ تنہائی

راکب مختار کی ایک اردو غزل

ادھر بھی دیکھیے دیدہ ورانٍ تنہائی
کہ ہو گیا کوئی انسان جانٍ تنہائی

تمام شہر کو معلوم ہے مرا مسکن
اداسیوں کا محلہ مکانٍ تنہائی

سمجھنا چاہیں اگر ہم تو سورہء اخلاص
ہے رب ٍ ارض و سما کا بیان ٍ تنہائی

جو بولتا ہے وہ خاموش ہو کے مرتا ہے
عجیب طرز کی ہے یہ زبانٍ تنہائی

قبولیت کی گھڑی ہے مجھے دعائیں دو
ہمیشہ زندہ رہے میزبان ٍ تنہائی

راکب مختار

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.