Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
سخن سنورتا رہا اور چراغ جلتا رہا
یہ جو دمکتا نظر آ رہا ہوں باہر سے
آتشِ ہجر جلانے پہ تُلی ہے مجھ کو
اُس نے اپنا سخن تمام کیا
نیندیں چرا کے لے گیا سیلاب نامراد
بڑھتی ہی جا رہی ہیں اب الجھنیں بہت
موت کچھ آسان ہوتی جا رہی
گلستان نہیں رھا بیاباں نہیں رھا
دیکھو تو کیا حسین ہے چہرہ استاد کا
یہ دستور ہے دل کو یہ سمجھانا ھے
بخش دینا سزا سے مشکل ہے
ایک چاند مانگ کر مُفلس ہوئی
پتھروں کا پیمان
کانٹے پہ کوئی موسم نہیں آتا !
<<
1
...
375
376
377
378
379
380
381
382
383
384
385
...
701
>>