Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
کیسی اُفتاد آپڑی دل پر
وہ باغ میں میرا منتظر تھا
وہ دل نواز ہے لیکن نظر شناس نہیں
قفس کو چمن سے سوا جانتے ہیں
سفر منزل شب یاد نہیں
ہنر کی بات کسی کم ہنر سے کیا کرتے
مت رو سالگ رام
اشک در اشک بھرے آنکھ سنبھلنے لگی ہے
جنوں تبدیلی موسم کا
تارے جو کبھی اشک فشانی
بس اک رستہ ہے
اے شب ہجر
صبح دم سارے پرندے یار کیوں خاموش ہیں
خواہشوں کی کتاب تھے جب تھے
<<
1
...
96
97
98
99
100
101
102
103
104
105
106
...
699
>>