Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
ایسا خاموش تو منظر
تجھ کو دیکھا ہے
کھلی کتاب کے صفحے
خوشبو جیسے لوگ ملے
اوس پڑی تھی رات
ذکر ہوتا ہے جہاں بھی
وہ خط کے پرزے اُڑا رہا تھا
بے سبب مسکرا رہا ہے چاند
مجھے اندھیرے میں بیشک
گلوں کو سننا ذرا تم
ایک پرواز دکھائی دی ہے
پیڑ کے پتوں میں ہلچل ہے
زندگی یوں ہوئی بسر تنہا
ہاتھ چھوٹیں بھی تو رشتے
<<
1
...
94
95
96
97
98
99
100
101
102
103
104
...
699
>>