Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
اک درد کہن آنکھ سے دھویا نہیں جاتا
بتوں کی آنکھ میں کیا خواب
ادائیں تم بنا لینا اشارے میں بناؤں گا
کہہ گیا ہوں جو میں روانی میں
مجھے بتایا گیا تھا یہاں محبت ہے
اسی نے بوئے شکوک دل میں
ہر قدم پر جو اتنا روتے ہو
لپٹ کے سوچ سے نیندیں
کس محبت سے یہ ہجرت کے
یہ جو زہر ہے ترے قرب کا
ہوئے جو ساتھ نظاروں نے رشک کرنا ہے
تمہارے شہر کا موسم بڑا سہانا لگے
نقشِ دلبر بہ دستِ قلم
امید کا چھوٹا چھاتا
<<
1
...
501
502
503
504
505
506
507
508
509
510
511
...
701
>>