Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
دھول آمادۂ سفر ہی نہ تھی
دل پہ دار و مدار ہے اپنا
شہرِ جاں میں قیام ہے دل کا
کیا کہیں اَور دل کے بارے میں
لہک رہی ہے کسی گُل کی باس گلیوں میں
پھول، خوشبو، دھنک ،ستارے سب
نیند کرتے ہیں مر نہیں جاتے
غلط نہیں ہے کسی کو یہ مشورہ دینا
چراغِ تعلّق بجھا دینے والے!
ہَوائے شب نے جسے تھا نظر میں رکھّا ہُوا
یہ تماشائے رنگ و بُو بھی مجھے
اے ہَوا تُو ہی نہیں میں بھی ہوں
نشّۂ غم ہے اور ہم ہیں بس
کبھی آباد تھا یہ شہرِ جاں بھی
<<
1
...
275
276
277
278
279
280
281
282
283
284
285
...
701
>>