Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
قدرت کے امتحان سے لگتا ہے ڈر مجھے
شب میں دن کا بوجھ اٹھایا دن میں شب بے داری کی
عرش بریں پرقیام اعلیٰ ہے
اب بھی جلتا شہر بچایا جا سکتا ہے
وہ جان بوجھ کے مجھ کو اداس رکھتا ہے
پیڑوں نے دھوپ سر پہ ہے
رائیگاں گفتگو کو دفن کریں
میں جہاں تھا وہیں رہ گیا معذرت
یوں مرا جسم مسمار کرنے لگا
رونا دھونا ڈال نہ اے دل
تمہاری آنکھیں حیا کا نظام، ویسے بھی
سب خواتین پر وہ مرتا ہے
ایک تیری دید کی میں پھر پیاسی رہ گئی
جب میں ہنستی ہوں تو میرا قہقہہ
<<
1
...
154
155
156
157
158
159
160
161
162
163
164
...
701
>>