Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
تھے جو دو چار مر گئے ہیں کیا
زمیں سے زیر ہوا ہوں نہ آسماں سے میں
ہاتھ میں جام ہے دل کو آرام ہے
پوری لگن امنگ سے میں نے نہیں کیا
میں پڑا ہوں میکدے میں بوتلوں کے درمیاں
جنون و عشق کے رستے بحال کرتی ہے
نہیں جو چیز جہاں میں اسے پکارے گئے
نشے میں جھومتا گاتا ہوں ٹوٹ جاتا ہوں
محسوس ہو رہا ہے کہ تنہا نہیں ہوں میں
یہ مری انا کی شکست ہے
مجھے اپنے ضبط پہ ناز تھا
وہ موجِ تبسّم شگفتہ شگفتہ
تم ماتھے پہ بل ڈال کے جو بات کرو گی
وہ یوں ملا کے بظاہر خفا خفا سا لگا
<<
1
...
672
673
674
675
676
677
678
679
680
681
682
...
701
>>