Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
یہ مرے گھر کے تین چار درخت
نشے میں ہم ہیں مگر
گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں
ماورا ہے سوچوں سے
اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات
بات کرتے ہو کیا دسمبر کی
سوچتے رہو، جیتے رہو
ہو سکے تو آ جاؤ بارشوں کے موسم میں
اس نے ہونٹوں سے کھینچ لی سگریٹ
ہوئی آنکھ نم دل تڑپ کر پکارا
میں صدا فقیری ہوں مجھ میں ہو زیادہ ہے
سینے میں کوئی آگ کا گولا ہے
اسی لیے تو کھڑے ہم بتوں کی صف میں ہیں
دکھی دلوں کا سہارا جہاں میں کوئی نہیں
<<
1
...
671
672
673
674
675
676
677
678
679
680
681
...
701
>>