Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
آخرِ کار ہو گیا تھا میں
سمے کی راجدھانی سے نکل کر
ہماری ابتدا ہونے سے پہلے
رنگ خاکے میں جو بھرا میں نے
سیط وقت میں قرنوں قیام کرتا ہوا
گل صنوبر کی غزل کا تجزیاتی مطالعہ
جہاں کا مالک
ہیچ صحرا ہیچ ہم بازار بود
گو مرا نالہ حزیں ہے آہ میری ناتواں
تکلّم صد ملامت خیز سے
مجھ کو مجھ سے بھی نہاں رکھا گیا ہے
کہیں پہ گشت و گزر اور ہے وجُود کہیں
صحرائے بے نوا سے یہ آیا مجھے پیام
گو تغیر سرشتِ خوں ہے میاں
<<
1
...
602
603
604
605
606
607
608
609
610
611
612
...
701
>>