اردو نظم

اردو زبان کی شاعری میں نظم کے لیے بحر وزن اور قافیہ و ردیف (یا صرف قافیہ) کی پابندی ضروری ہے۔ موضوع کی کوئی قید نہیں۔ نظم کسی بھی موضوع پر کسی بھی ہیئت (یعنی مثنوی، قصیدہ، مسدس، مربع یا ترکیب بند وغیرہ) میں لکھی جا سکتی ہے۔ عموماً کسی ایک خیال یا تصوّر کو موضوعِ نظم بنایا جاتا ہے، یعنی نظم کے لیے صرف تسلسلِ خیال ضروری ہے۔
اردو زبان میں نظم بنیادی طور پر شاعری کی ایک ایسی قسم ہے جس میں کسی ایک ہی خیال کو الفاظ کے ہموار بہاؤ کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے۔جہاں تمام اشعار لکھنے والے کے خیال کے تسلسل کا اظہار کرتے ہیں جبکہ دوسری جانب غزل کا ہر شعر اپنی جگہ مکمل اور مختلف معنیٰ رکھتا ہے۔اگر وسیع پیمانے پر دیکھا جائے تو نظم اردو شاعری کی ان تمام اقسام کی نمائندگی کرتی ہے جن کو کسی اور تعریف کے ذریعے بیان نہیں کیا جاسکتا لیکن ادبی نکتہ نظر سے نظم شاعری کی ایک بہت منظوم اور منطقی لحاظ سے غیر محسوس طور پر ٹھوس صنعف ہے جس میں شاعری کا مرکزی خیال ایک ہوتا ہے اگرچہ روایتی نظم میں بھی پابندیاں ضروری ہیں لیکن کئی جگہوں پر ہمیں کئی شہکار آزاد نظموں کی بھی مثالیں ملتی ہیں نظم کے ادبی معنیٰ نثر کی ضد کے ہیں۔

ہم نے دیکھا ہے

ایک اردو نظم از محمد یوسف برکاتی

2 ہفتے پہلے

ماتم

شہباز خواجہ کی ایک اردو نظم

2 ہفتے پہلے

ہجر

شہباز خواجہ کی ایک اردو نظم

2 ہفتے پہلے

واپسی

شہباز خواجہ کی ایک اردو نظم

2 ہفتے پہلے

کیون کارٹر (Kevin Carter)

شہباز خواجہ کی ایک اردو نظم

2 ہفتے پہلے

محبت ہے جبھی تو

سلیم فگار کی ایک اردو نظم

2 ہفتے پہلے

یہی دعا ہے

سلیم فگار کی ایک اردو نظم

2 ہفتے پہلے

سرنڈر

سلیم فگار کی ایک اردو نظم

2 ہفتے پہلے

کشمکش

سلیم فگار کی ایک اردو نظم

2 ہفتے پہلے

ماں

سلیم فگار کی ایک اردو نظم

2 ہفتے پہلے