ہم نے دیکھا ہے

ایک اردو نظم از محمد یوسف برکاتی

ہم نے آزاد فضا میں اڑتے ہوئے پرندے کو
بند پنجرے میں پھڑپھڑاتے ہوئے دیکھا ہے

جب وقت پلٹا کھا جائے تب میرے یارو
اچھے اچھوں کو لڑکھڑاتے ہوئے دیکھا ہے

اپنے منصب کا غلط فائدہ اٹھانے والوں کو
پکڑ میں آنے پر اکثر تلملاتے ہوئے دیکھا ہے

غرور و تکبر میں مست لوگوں کو ہم نے
زندگی میں ہی خاک چھانتے ہوئے دیکھا ہے

فرعون نمرود شداد اور یزید کو بھی ہم نے
عبرتناک موت کو گلے لگاتے ہوئے دیکھا ہے

کچھ لوگ جب پشیمان ہوتے ہیں تو ہم نے
سجدوں میں ان کو گڑگڑاتے ہوئے دیکھا ہے

نیک لوگ پسند ہیں رب کو مگر اسی رب کو
گناہگار پر بھی رحمت برساتے ہوئے دیکھا ہے

جہاں ہو اچھے ہو یوسف ورنہ ہم نے تو اکثر
لوگوں کو اوپر سے نیچے آتے ہوئے دیکھا ہے

محمد یوسف میاں برکاتی