حکایتِ آتش و دستِ غرور

شاکرہ نندنی کی ایک اردو تحریر

اانسان کے اندر ایک خاموش دنیا آباد ہوتی ہے، جہاں خواہش، خوف، محبت اور غرور ساتھ ساتھ رہتے ہیں۔ کبھی یہی غرور اتنا بڑھ جاتا ہے کہ انسان اپنی دولت، طاقت اور حیثیت کو اپنی اصل سمجھ بیٹھتا ہے۔

مگر زندگی کا ایک گہرا اصول ہے: جو چیز ہمیں دوسروں سے بلند دکھاتی ہے، وہی کبھی کبھی ہمیں اندر سے خالی کر دیتی ہے۔

دولت آسائش دے سکتی ہے، سکون نہیں۔ طاقت راستے کھول سکتی ہے، مگر دلوں کے دروازے نہیں۔ انسان دنیا کو متاثر کرتے کرتے یہ بھول جاتا ہے کہ اصل سوال یہ ہے کہ تنہائی میں اس کا اپنا باطن اس کے بارے میں کیا کہتا ہے۔

بعض آگیں باہر نہیں جلتیं؛ وہ انسان کے اندر پیدا ہوتی ہیں۔ حسد، غصہ، انتقام اور تکبر ان کے ایندھن بنتے ہیں۔ انسان سمجھتا ہے کہ وہ دوسروں کو سزا دے رہا ہے، مگر اکثر وہ خود ہی اس آگ کا پہلا شکار ہوتا ہے۔

ہم جو کچھ دوسروں کو دیتے ہیں، اس کا ایک حصہ ہمارے اندر بھی جمع ہوتا رہتا ہے۔ نفرت دل کو تنگ کرتی ہے، محبت اسے وسیع۔ تحقیر انسان کو چھوٹا کرتی ہے، رحم اسے بڑا بناتا ہے۔

روحانیت شاید اسی مقام سے شروع ہوتی ہے جہاں انسان اپنے اندر کے اندھیرے کو پہچان لیتا ہے۔ اسے سمجھ آتا ہے کہ اصل طاقت کسی کو دبانے میں نہیں، بلکہ طاقت رکھتے ہوئے بھی نرم رہنے میں ہے۔

آخرکار زندگی ہم سے پوچھتی ہے:

تم نے اپنے ہاتھوں سے کیا بنایا؟ دیواریں یا پل؟ خوف یا اعتماد؟

انسان اپنے نام، مال اور شور کو ہمیشہ ساتھ نہیں لے جاتا۔ آخر میں صرف وہ اثر باقی رہتا ہے جو اس نے دوسروں کے دلوں پر چھوڑا۔

اور شاید روح کی سب سے بڑی کامیابی یہی ہے کہ ہماری یاد کسی زخمی دل کی وجہ سے نہیں، بلکہ کسی روشن دل کی وجہ سے زندہ رہے۔

شاکرہ نندنی

شاکرہ نندنی

میں شاکرہ نندنی ہوں، ایک ماڈل اور ڈانسر، جو اس وقت پورٹو، پرتگال میں مقیم ہوں۔ میری پیدائش لاہور، پاکستان میں ہوئی، اور میرے خاندانی پس منظر کی متنوع روایات میرے ثقافتی ورثے میں جھلکتی ہیں۔ بندۂ ناچیز ایک ہمہ جہت فنکارہ ہے، جس نے ماڈلنگ، رقص، تحریر، اور شاعری کی وادیوں میں قدم رکھا ہے۔ یہ سب فنون میرے لیے ایسے ہیں جیسے بہتے ہوئے دریا کے مختلف کنارے، جو میری زندگی کے مختلف پہلوؤں کی عکاسی کرتے ہیں۔