مل ناں سکا یہ بات الگ چاہیے تو تھا

ایک اردو غزل از رشید حسرت

مل ناں سکا یہ بات الگ چاہیے تو تھا
زہراب نے اثر نہ کیا تھا، پیے تو تھا

یہ کیا کہ سنگ باری تمہاری طرف سے ہے
دیوانہ پن یہ اپنا تمہارے لیے تو تھا

بوسیدہ ہو چلی تھی بدن کی قبا مگر
دامن کو تارِ صبر و رضا سے سیے تو تھا

تم نے حقیر جانا تو دھتکارنا بجا
توقیر میری کیا "کہ او بالشتیے!” تو تھا

کس زعم میں تھا جس نے گرایا نظر سے ہے
پہنے لباس مَیں تھا، عمامہ کیے تو تھا

تاریکیوں سے میری لپیٹی گئی بساط
آنکھوں میں کچھ لیے ہوئے روشن دیے تو تھا

کیسی گئی حیات الگ بات ہے مگر
جینے کو میں رشیدؔ برابر جیے تو تھا

رشید حسرتؔ، کوئٹہ
۳۰، ستمبر، ۲۰۲۶

رشید حسرت

رشید حسرت نے 1981 سے باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا۔ ان کی شاعری اخبارات، ادبی رسائل اور کل پاکستان و کل پاک و ہند مشاعروں میں شائع اور پیش ہوتی رہی۔ پی ٹی وی کوئٹہ کے مشاعروں میں ان کی شرکت ان کی تخلیقی شناخت کا آغاز تھی، مگر بعد میں انہوں نے اجارہ داریوں اور غیر منصفانہ رویّوں سے تنگ آ کر اس نظام سے علیحدگی اختیار کی۔ ان کے پانچ شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ سب کے سب اپنی ذاتی جیب سے، جو ان کے خلوص اور ادب سے والہانہ لگاؤ کی علامت ہیں۔ رشید حسرت اس طبقے کے نمائندہ شاعر ہیں جنہوں نے ادب کو کاروبار نہیں بلکہ عبادت سمجھا۔