رشید حسرت

رشید حسرت نے 1981 سے باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا۔ ان کی شاعری اخبارات، ادبی رسائل اور کل پاکستان و کل پاک و ہند مشاعروں میں شائع اور پیش ہوتی رہی۔ پی ٹی وی کوئٹہ کے مشاعروں میں ان کی شرکت ان کی تخلیقی شناخت کا آغاز تھی، مگر بعد میں انہوں نے اجارہ داریوں اور غیر منصفانہ رویّوں سے تنگ آ کر اس نظام سے علیحدگی اختیار کی۔ ان کے پانچ شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ سب کے سب اپنی ذاتی جیب سے، جو ان کے خلوص اور ادب سے والہانہ لگاؤ کی علامت ہیں۔ رشید حسرت اس طبقے کے نمائندہ شاعر ہیں جنہوں نے ادب کو کاروبار نہیں بلکہ عبادت سمجھا۔

ہم اپنا آپ رکھ کر بھول بیٹھے ہیں

ہم اپنا آپ رکھ کر بھول بیٹھے ہیں کہیں پر مگر تم ظرف دیکھو تو نہ آئے بل جبیں پر…

2 ہفتے پہلے

پیلی دھوپ

رشید حسرت کی کتاب پڑھیں

5 مہینے پہلے

زمیں کھسکنے لگی

ایک اردو غزل از رشید حسرت

5 مہینے پہلے

ہماری ضِد ہے

ایک اردو غزل از رشید حسرت

5 مہینے پہلے