زمیں کھسکنے لگی

ایک اردو غزل از رشید حسرت

زمیں کھسکنے لگی، سر سے سب فلک تو گئے
وداع کرنے اسے ساتھ دور تک تو گئے

جواب لب سے محبت میں کیا ضروری ہے؟
کہ اعتراف میں کنگن مرے کھنک تو گئے

وہ میرے ہاتھ سے راکھی بندھا کے لوٹ گئی
بھلا ہؤا یہ، کسی کے شکوک و شک تو گئے

اگر ہیں زندہ تو سمجھو تمہاری آس میں ہیں
جو اتفاق سے پائی کبھی جھلک، تو گئے

میں چند روز میں اُس پر کھلا تو کیا ہو گا
بناوٹوں سے مرے عیب آج ڈھک تو گئے

مشقتوں کا ہمیں کچھ صلہ ملا ہی نہیں
اگرچہ سامنے اپنے اناج پک تو گئے

رشیدؔ وقت نے کس غار میں ہے لا پٹخا
کرم کے ابر کھلے، اب کُھلی دھنک، تو گئے

رشید حسرتؔ، کوئٹہ

۲۴، نومبر ۲۰۲۵

رشید حسرت

رشید حسرت نے 1981 سے باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا۔ ان کی شاعری اخبارات، ادبی رسائل اور کل پاکستان و کل پاک و ہند مشاعروں میں شائع اور پیش ہوتی رہی۔ پی ٹی وی کوئٹہ کے مشاعروں میں ان کی شرکت ان کی تخلیقی شناخت کا آغاز تھی، مگر بعد میں انہوں نے اجارہ داریوں اور غیر منصفانہ رویّوں سے تنگ آ کر اس نظام سے علیحدگی اختیار کی۔ ان کے پانچ شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ سب کے سب اپنی ذاتی جیب سے، جو ان کے خلوص اور ادب سے والہانہ لگاؤ کی علامت ہیں۔ رشید حسرت اس طبقے کے نمائندہ شاعر ہیں جنہوں نے ادب کو کاروبار نہیں بلکہ عبادت سمجھا۔