ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

ایک اردو غزل از رفیق لودھی

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا
دل دوبارہ لہو میں ڈوب گیا

تھک گیا تھا چراغ جلتے ہوئے
اک منارہ لہو میں ڈوب گیا

آئنہ خال وخد میں قید رہا
کیا اشارہ لہو میں ڈوب گیا

روشنی بجھ گئی مرے اندر
اک ستارہ لہو میں ڈوب گیا

کھل رہے ہیں گلاب دریا میں
کیا کنارہ لہو میں ڈوب گیا

آنکھ کیوں بھر گئی تماشے سے
کیوں نظارہ لہو میں ڈوب گیا

خال و خد نقش ہو گئے مجھ میں
استخارہ لہو میں ڈوب گیا

زندگی جانتی تھی جس کو رفیق
وہ سہارہ لہو میں ڈوب گیا

رفیق لودھی

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔