آسودگی

افسانہ نگار : ڈاکٹر الیاس عاجزؔ

شرافت علی کی انگلیاں جب موبائل کی سکرین پر تھرکتیں تو لفظوں سے آفاقیت کے جھرنے پھوٹنے لگتے۔ وہ مابعدالطبیعیات کے اس باریک نقطے پر کھڑا تھا جہاں کائنات، وجود اور عدم ایک لکیر پر آ کر مل جاتے ہیں۔ اس کے سوشل میڈیا پیج پر روزانہ مداحوں کا ایک ہجوم اکٹھا ہوتا۔ کوئی اس کے مصرعوں کو وجودی فلسفے کا نچوڑ کہتا تو کوئی اسے "آفاقی سچائیوں کا امین” قرار دیتا۔سکرین پر چمکتے ہوئے لائیکس اور تعریفی کمنٹس کے درمیان اکثر ایک ہی فرمائش دہرائی جاتی: "شرافت صاحب! خدا کے لیے اب اپنا مجموعہِ کلام چھپوائیے۔ آپ کو صاحبِ کتاب ادیبوں کی صف میں ہونا چاہیے!”شرافت علی ان کمنٹس کو دیکھتا۔ ایک گہری سانس لیتا اور موبائل ایک طرف رکھ دیتا حالانکہ مرنے کے بعد دوام حاصل کرنے کی خواہش اس کے دل میں بھی کبھی کبھی انگڑائیاں لیتی تھی۔اس کا راسخ عقیدہ تھا کہ جب قبروں کے نام و نشان تک نیست و نابود ہو جائیں تو صرف انسان کے افکار و خیالات ہی ہوتے ہیں جو اسے بقائے دوام بخشتے ہیں مگر اس کے باوجود سکرین کی اس ورچوئل دنیا سے باہر کی تلخ حقیقت سے بخوبی واقف تھا اور جانتا تھا کہ ڈیجیٹل اسکرولنگ کے اس طوفان میں کتاب بینی کا رواج دم توڑ چکا ہے۔
وقار ہمیشہ اس کے قلم کے تقدس کا کسی متبرک شے کی طرح احترام کیا کرتا تھا۔جون کے پہلے ہفتے کی ایک جھلسا دینے والی شام تھی۔سات بج رہے تھے اور وقار حسب دستور شرافت کے تاریک کمرے میں داخل ہوا جہاں وہ سگریٹ کے دھوئیں کے مرغولوں میں گم کھڑکی سے باہر نظریں جمائے بیٹھا تھا۔ میز پر چائے کے دو پیالے رکھے تھے جن سے اٹھتی ہوئی بھاپ اب سرد ہو چکی تھی۔
"شرافت! آخر کب تک؟” وقار نے خاموشی کو توڑتے ہوئے سنجیدگی سے پوچھا۔ "یہ سوشل میڈیا کی دنیا عارضی ہے۔ ایک سراب ہے جس کی کوئی مادی حقیقت نہیں۔ یہاں لفظ سکرین کی ایک سکرولنگ کے ساتھ ہی معدوم ہو جاتے ہیں۔ تمہیں اپنے افکار و خیالات کو اب کتابی شکل دینا ہی ہوگی۔ انسان مر جاتا ہے شرافت مگر کتاب اسے زمان و مکاں کی قید سے آزاد کر کے تاریخ کے ماتھے پر زندہ رکھتی ہے۔ تمہیں صاحبِ کتاب ادیبوں کی صف میں ہونا چاہیے!”
شرافت علی نے آہستہ سے سر گھمایا۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی یاسیت اور گہرا ٹھہراؤ تھا جیسے وہ صدیوں کی مسافت طے کر کے آیا ہو۔ اس نے سگریٹ کی راکھ جھاڑی اور دھیمے مگر بھاری لہجے میں بولا:
"تاریخ کے ماتھے پر زندہ رہنا؟ وقار تم جسے تاریخ کہہ رہے ہو وہ دراصل لفظوں کا ایک قبرستان ہے اور تم چاہتے ہو کہ میں اپنے جیتے جاگتے احساسات کو کاغذ کے سفید کفن میں لپیٹ کر اس قبرستان کے حوالے کر دوں؟”
"یہ تم کیا کہہ رہے ہو شرافت؟” وقار نے تڑپ کر کہا۔ "کتاب تو علم کا نور ہے۔روح کا اثاثہ ہے!”
"کتاب علم کا نور تب بنتی ہے وقار! جب وہ کسی کی انگلیوں کے لمس سے گزر کر اس کے باطن میں اترے۔” شرافت علی کھڑا ہوا اور کمرے میں چکر کاٹتے ہوئے کہنے لگا: "سوشل میڈیا کا قاری جیسا بھی ہے وہ میرے شعر کو پڑھتا ہے۔ تڑپتا ہے۔ ردِعمل دیتا ہے۔ وہ سکرین پر ہی سہی مگر میرے ساتھ سانس لیتا ہے۔ لیکن مادی دنیا کا المیہ دیکھو! میں نے بڑے بڑے نامور شعرا کو دیکھا ہے جو اپنے خونِ جگر سے لکھی کتابیں بغل میں دبائے شہر کے چوراہوں اور محفلوں میں مفت بانٹتے پھرتے ہیں۔ لوگ اخلاقیات کے جھوٹے لبادے اوڑھ کر کتاب وصول تو کر لیتے ہیں مگر وہ سیدھی ڈرائنگ روم کی لکڑی کی کسی بے جان شیلف کی زینت بن جاتی ہے۔”
وہ وقار کے قریب آیا اور اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولا:
"تم جانتے ہو اس کا مطلب کیا ہے؟ ایک تخلیق کار کے لیے اس سے بڑی مابعدالطبیعیاتی موت اور کیا ہوگی کہ اس کا اپنے خدا اور اس کی کائنات سے مکالمہ لکڑی کے دو تختوں کے درمیان بند ہو کر دھول چاٹتا رہے؟ کتاب کا سفر مصنف کے ہاتھ سے شروع ہو کر قاری کی روح تک ہونا چاہیے نہ کہ کسی بیوروکریٹ کے شیشے دار شوکیس تک۔ مجھے اس مادی نمائش سے خوف آتا ہے اور پھر… تم تو پبلشرز کے مزاج سے واقف ہو یار۔۔۔ کتاب چھپوانا اب ایک تخلیقی عمل نہیں بلکہ ایک مہنگا کاروبار ہے جو میرے بس سے باہر ہے۔”
وقار نے کچھ دیر شرافت علی کے چہرے کو دیکھا جہاں ایک سچے فنکار کی انا اور اس کا خوف صاف پڑھے جا سکتے تھے۔ اس نے آگے بڑھ کر شرافت کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ اس کے لہجے میں سچی ہمدردی اور عزم تھا:
"شرافت! تمہارا خوف اپنی جگہ سچا ہو سکتا ہے مگر تمہارا یہ فلسفہ تمہارے فن کے ساتھ ناانصافی ہے۔ اگر سقراط، افلاطون اور رومی بھی اسی خوف کا شکار ہو جاتے تو آج کائنات اپنے وجود کے رازوں سے بے خبر ہوتی۔ تم مالی امور کی فکر چھوڑو۔ یہ میرا تم پر احسان نہیں بلکہ ادب پر میرا قرض ہے جو میں چکانا چاہتا ہوں۔ میں اپنی جیب سے یہ کتاب چھپواؤں گا اور دنیا کو دکھاؤں گا کہ مابعدالطبیعیات کا اصل مفہوم کیا ہوتا ہے۔”
شرافت علی نے وقار کی آنکھوں میں چمکتا ہوا خلوص دیکھا۔ اس خلوص کے آگے اس کے تمام فلسفیانہ دلائل مٹی کے گھروندے کی طرح بکھر گئے۔ اس نے ایک لمبی سانس لی اور خاموشی سے سر ہلا دیا۔ ایک ایسی خاموشی جس کا مفہوم سوائے شرافت علی کے اور کوئی نہیں سمجھ سکتا تھا۔
کتاب کی اشاعت کا اعلان جیسے ہی سوشل میڈیا پر ہوا ایک تہلکہ مچ گیا۔ ان باکس پیغامات سے بھر گیا۔ لوگ کتاب کی تاریخِ اشاعت پوچھ رہے تھے۔ دور دراز کے شہروں سے لوگ ڈاک کے ذریعے کتاب منگوانے کی خواہش ظاہر کر رہے تھے۔ شرافت علی کے دل کے کسی نہاں خانے میں ایک موہوم سی امید نے سر اٹھایا۔ اس نے سوچا کہ شاید میں غلط تھا۔شاید لوگ اب بھی روح کے سکون کے لیے لفظوں کو چھونا چاہتے ہیں۔
شرافت علی نے رضامندی دے دی۔ کتاب اشاعت کے مراحل سے گزری۔ نام نہایت منفرد اور فلسفیانہ چنا گیا "آسودگی”۔ ایک ایسا نام جسے پڑھنے کے بعد قاری ذہنی آسودگی محسوس کرے اور خود شاعر کو بھی یہ اطمینان حاصل ہو کہ اس کے مابعدالطبیعیاتی فلسفیانہ سوالات کو کائنات نے سن لیا ہے۔ کتاب کا ٹائٹل سحر انگیز تھا اور ملک کے نامور نقادوں نے کتاب کے محاسن پر گراں قدر مضامین لکھے۔
پچیس جون، ہفتے کا دن تھا۔شہر کے سب سے بڑے ادبی مرکز کے وسیع و عریض ہال میں تقریبِ رونمائی کا انعقاد کیا گیا۔ ہال کے بیرونی دروازے پر بھاری مخملیں پردے لٹک رہے تھے جنہیں ہٹا کر جیسے ہی کوئی اندر داخل ہوتا وہ خود کو ایک الگ ہی جہاں میں پاتا۔ تقریبِ رونمائی شروع ہونے میں اب بھی آدھا گھنٹہ باقی تھا مگر ہال میں چہل پہل اپنے عروج پر پہنچ چکی تھی۔​ہوا میں چمپا کے عطر اور ائیرکنڈیشنر کی خنک خوشبو باہم آمیز ہو کر ایک سحر انگیز فضا بنا رہی تھی۔ ہال کی چھت سے لٹکتے ہوئے مہیب فانوسوں کی زرد اور سفید روشنیاں نیچے بچھی ہوئی سرخ قالین پر منعکس ہو رہی تھیں جس سے پورے ماحول پر ایک کلاسیکی اور پروقار رنگ چڑھ گیا تھا۔​اسٹیج کو نہایت نفاست سے سجایا گیا تھا۔ پس منظر میں ایک بڑا فلیکس آویزاں تھا جس پر گہرے سرمئی اور سنہرے حروف میں کتاب کا نام چمک رہا تھا "آسودگی”۔ اسٹیج کے وسط میں رکھی گداز کرسیوں کے سامنے لکڑی کے چمکدار میز پر سفید پھولوں کے گلدستے سجے تھے اور ان کے عین درمیان شرافت علی کی کتاب "آسودگی” کے چند نسخے ایک دوسرے پر اس طرح دھرے تھے جیسے کوئی قیمتی اہرام ہو۔​ہال کے مختلف گوشوں میں دانشوروں، شاعروں اور قارئین کے چھوٹے چھوٹے گروہ بنے ہوئے تھے۔ چائے کی ٹرالیاں ادھر سے ادھر گھوم رہی تھیں جن پر رکھی چائے کی پیالیوں اور چمچوں کی کھنکھناہٹ گفتگو کے پس منظر میں ایک موسیقی کا کام کر رہی تھی۔
​ایک کونے میں شہر کے دو مایہ ناز نقاد سفید بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے مابعدالطبیعیات اور وجودیت پر جرح کر رہے تھے۔ ان کے چہروں کی سنجیدگی بتا رہی تھی کہ وہ آج رات شرافت علی کے لفظوں کا کڑا ٹرائل کرنے کے لیے تیار ہیں۔ دوسری طرف کچھ نوجوان لکھاری اور یونیورسٹی کے طلبہ ہاتھوں میں موبائل تھامے جوش و خروش سے باتیں کر رہے تھے۔ وہ بار بار اسٹیج کی تصویریں کھینچتے اور انہیں سوشل میڈیا پر لائیو اپلوڈ کر رہے تھے۔ ڈیجیٹل دنیا کا یہ ہجوم مادی دنیا کے اس ہال میں بھی اپنی موجودگی کا احساس دلا رہا تھا۔​خواتینِ ادب ریشمی ساڑھیوں اور نفیس شالوں میں ملبوس اپنے مخصوص مہذب لہجے میں ایک دوسرے سے محوِ گفتگو تھیں۔ ہال کا شور دھیما مگر گہرا تھا۔ یہ وہ شور نہیں تھا جو بازاروں میں ہوتا ہے بلکہ یہ لفظوں، خیالوں اور نظریات کے ٹکراؤ سے پیدا ہونے والی ایک فکری گونج تھی۔
​اس سارے ہنگامے سے دور ہال کی پچھلی نشستوں کے پاس وقار کھڑا تھا جس کی آنکھوں میں ایک عجیب چمک اور اطمینان تھا اور یہ سارے انتظامات شرافت علی سے اس کی پرخلوص دوستی کا منہ بولتا ثبوت تھے۔ وہ بار بار اپنے کوٹ کے بٹن درست کرتا۔آنے والے مہمانوں کا استقبال کرتا اور پھر فخر سے اسٹیج پر رکھی "آسودگی” کو دیکھنے لگتا۔ اسے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے آج وہ اپنے دوست کی روح کو ہمیشہ کے لیے امر کرنے جا رہا ہے۔
​اور شرافت علی؟ وہ ہال کے ایک نیم تاریک گوشے میں صوفے پر خاموش بیٹھا اس ساری چہل پہل کو دیکھ رہا تھا۔ لوگ اس کے پاس آتے۔ جھک کر مصافحہ کرتے۔ مبارکباد دیتے اور وہ ایک دھیمی اور میکانکی مسکراہٹ کے ساتھ ان کا شکریہ ادا کر دیتا لیکن اس کی متلاشی آنکھیں ہال کی اس رونق میں بھی اس "خلا” کو دیکھ رہی تھیں جو مادی دنیا کا خاصہ ہے۔ وہ دیکھ رہا تھا کہ لوگ وہاں تھے۔ روشنی وہاں تھی۔ گفتگو وہاں تھی مگر کیا وہاں ‘آسودگی’ تھی؟ یہ سوال ہال کے اس پرشکوہ منظر کے پیچھے ایک سائے کی طرح کھڑا تھا جس کے جواب کا تصور کر کے ہی شرافت علی کو دانتوں پسینہ آ جاتا تھا۔
شہر کے چوٹی کے ادیب اور شعرا اسٹیج پر رونق افروز تھے۔ انہوں نے شرافت علی کی شاعری میں موجود آفاقیت اور مابعدالطبیعیات پر سیر حاصل گفتگو کی۔
شرافت علی نے جب مائیک پر آ کر اپنے منتخب اشعار پڑھے تو ہال تالیوں کی گونج سے لرز اٹھا۔
پروگرام کا اختتام ہوا۔ مہمانوں کی ضیافت کی گئی۔ شرافت علی نے روایتی مروت کے تحت چند نامور شعرا کو کتاب کے اندرونی صفحے پر ان کا نام اور اپنے دستخط لکھ کر تحفتاً پیش کی۔ مبارکبادوں کا ایک شور تھا جو چومکھی چل رہا تھا۔
جب ہال خالی ہوا اور اکیلا شرافت علی اپنی مسکراہٹ کا تھکا ہوا لبادہ اتار رہا تھا تو اس کی نظر اگلی نشستوں پر پڑی۔ وہاں تین چار کتابیں لاوارث پڑی تھیں۔ یہ وہی کتابیں تھیں جو اس نے بڑے چاؤ سے نامور شعرا کو دستخط کر کے دی تھیں۔ وہ مصنف کا نام اور دستخط سمیت انہیں وہیں چھوڑ کر جا چکے تھے۔ شرافت کے دل میں ایک کسک سی اٹھی جیسے کسی نے اس کی روح کے ایک حصے کو وہیں فرش پر چھوڑ دیا ہو۔
شرافت علی کو ایک عجیب سی مہم در پیش تھی۔ وہ شہر کے مختلف بیوروکریٹس، تعلیمی اداروں کے پرنسپلز اور بڑے بزنس مینوں جو ادبی تقریبات کے روحِ رواں ہوتے تھے کے پاس گیا۔ وہ چاہتا تھا کہ اس کا فلسفہ ان لوگوں تک پہنچے جو معاشرے کو چلاتے ہیں۔
وہ جہاں بھی جاتا اس کا شاندار استقبال ہوتا۔ اسے چائے پانی پلایا جاتا۔ عزت افزائی کی جاتی۔ لوگ خواہ ادبی ذوق رکھتے تھے یا نہیں، کتاب بڑے احترام سے لیتے اور شرافت علی کے سامنے ہی اسے اپنے پیچھے موجود چمکتی ہوئی الماری کی شیشے دار شیلف میں سجا دیتے۔
"بہت شکریہ شرافت صاحب! آپ کی کتاب ہماری لائبریری کی رونق بڑھائے گی،” ایک اسسٹنٹ کمشنر نے مسکرا کر کہا۔
ان الفاظ نے شرافت علی کو اندر سے توڑ کر رکھ دیا۔
وہ واپس اپنے کمرے میں آ گیا۔ اس نے دیکھا کہ سوشل میڈیا پر اب بھی "آسودگی” کے چرچے تھے اور لوگ ڈیجیٹل سکرین پر اس کے سرورق کی تصویریں شیئر کر کے داد کے ڈونگرے برسا رہے تھے مگر مادی دنیا میں وہ کتاب صرف ایک ‘سجاوٹی شے’ بن کر رہ گئی تھی۔
شرافت علی نے الماری میں رکھی "آسودگی” کی ایک کاپی نکالی۔ اس نے کتاب کو کھولا تو کاغذ کی تازہ روشنائی کی خوشبو پھیل گئی۔ اس نے کتاب کے صفحات کو پلٹا۔ وہ صفحات بالکل کورے اور بے داغ تھے جن پر کسی قاری کی انگلیوں کے نشانات تھے اور نہ ہی کسی سوچ کا سایہ۔
اس نے کھڑکی سے باہر دیکھا جہاں رات کا اندھیرا گہرا ہو رہا تھا اور آسمان پر ستارے مابعدالطبیعیاتی خاموشی سے چمک رہے تھے۔
شرافت علی کے چہرے پر ایک تلخ اور فلسفیانہ مسکراہٹ ابھری۔ انسان کتنا عجیب ہے۔ وہ جس سچائی کی تلاش میں بھٹکتا ہے جب وہ کاغذ پر منتقل ہو کر اس کے سامنے آتی ہے تو وہ اسے پڑھنے کے بجائے صرف محفوظ کر لیتا ہے جیسے کسی ممی کو اہرام میں بند کر دیا جائے تاکہ وہ زندہ نہ ہو سکے۔
اس نے میز پر رکھے قلم کو اٹھایا اور کتاب کے بالکل آخری خالی صفحے پر جہاں کوئی شعر نہیں تھا ایک جملہ لکھا:
"آسودگی پڑھنے سے نہیں کتاب کو بند کر کے شیلف میں رکھ دینے سے حاصل ہوتی ہے کیونکہ بند کتابیں کبھی سوال نہیں کرتیں اور انسان سوالوں سے خوفزدہ ہے۔”
اس نے کتاب بند کی۔ اسے میز پر رکھا اور لائٹ بند کر کے بستر پر لیٹ گیا۔ کمرے میں اندھیرا تھا اور میز پر رکھی کتاب کا ٹائٹل اس اندھیرے میں کسی قدیم کتبے کی طرح خاموش کھڑا تھا جسے دیکھنے والے بہت تھے مگر پڑھنے والا کوئی نہیں تھا۔

ڈاکٹر الیاس عاجزؔ