گم شدہ چراغ

محسن خالد محسنؔ کی ایک اردو تحریر

بارش ابھی تھمی ہی تھی۔ آسمان پر بادل ایسے تیر رہے تھے جیسے کوئی تھکا ہوا قافلہ سفر کے بعد آرام کر رہا ہو۔ گاؤں کے کنارے ایک چھوٹا سا گھر تھا۔ اس گھر میں بارہ سال کی ایک لڑکی رہتی تھی۔ اُس کا نام مریم تھا۔ اُس کی آنکھیں صبح کے ستارے کی طرح چمکتی تھیں، مگر اُن میں ہمیشہ ایک اداسی تیرتی رہتی تھی۔
مریم اپنی ماں زبیدہ کے ساتھ رہتی تھی۔ زبیدہ گاؤں کی امیر عورتوں کے گھروں میں کام کرتی تھی۔ اُس کے کپڑے ہمیشہ صاف ہوتے مگر دل میں جیسے کوئی اندھیرا چھپا رہتا۔ مریم جب بھی اپنے باپ کے بارے میں پوچھتی تو زبیدہ کی آنکھیں پتھر بن جاتیں۔
"تمہارے ابو بہت پہلے مر گئے تھے۔”
وہ ہر بار یہی کہتی۔
مریم خاموش ہو جاتی لیکن اُس کا دل مانتا نہ تھا۔ اُسے لگتا جیسے کہیں نہ کہیں اُس کا باپ زندہ ہے۔ رات کو جب چاند کھڑکی سے جھانکتا تو مریم سوچتی کہ اُس کا باپ بھی شاید اسی چاند کو دیکھ رہا ہوگا۔
ایک دن مریم گھر کے کمرے میں پرانی چیزیں ڈھونڈ رہی تھی۔ اچانک اُسے لکڑی کے صندوق میں ایک تصویر ملی۔ تصویر میں ایک آدمی اُسے اپنی بانہوں میں اٹھائے ہنس رہا تھا۔ اُس آدمی کی آنکھیں بالکل مریم جیسی تھیں۔
تصویر کے پیچھے لکھا تھا:
"میرے جگنو مریم کے لیے۔
تمہارا ابو، سلیم۔”
مریم کے ہاتھ کانپنے لگے۔ اُس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا جیسے پنجرے میں بند چڑیا پھڑپھڑا رہی ہو۔
اسی وقت دروازے پر دستک ہوئی۔ گاؤں کی بوڑھی اماں اندر آئیں۔ اُنہوں نے تصویر دیکھی تو آہ بھری۔
"بیٹی، سچ کبھی نہ کبھی سامنے آ ہی جاتا ہے۔”
"کیا مطلب؟” مریم نے حیرت سے پوچھا۔
بوڑھی اماں نے دھیرے سے کہا:
"تمہارے ابو زندہ ہیں۔ تمہاری ماں نے دولت کے لالچ میں اُن سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ ایک رئیس آدمی نے تمہاری ماں کو بہت سا پیسہ دیا تھا۔ اُس نے تمہیں تمہارے باپ سے دور کر دیا۔”
یہ سُن کر مریم کے قدموں تلے زمین نکل گئی۔ اُسے لگا جیسے اُس کے دل کا ننھا چراغ تیز ہوا میں کانپنے لگا ہو۔
رات بھر وہ سو نہ سکی جبکہ اُس کی ماں آرام سے سو رہی تھی۔ مریم کی آنکھوں میں سوالوں کا سمندر تھا۔
صبح سورج نکلا تو مریم نے فیصلہ کر لیا۔
"میں اپنے ابو کو ڈھونڈوں گی۔”
وہ خاموشی سے گھر سے نکل پڑی۔ اُس کے پاس صرف ایک چھوٹا سا تھیلا، تصویر اور تھوڑے سے سکے تھے۔
راستہ لمبا تھا۔ دھوپ آگ برسا رہی تھی۔ سڑک ایسے تپ رہی تھی جیسے انگاروں کا فرش ہو۔ مریم کے پیر جلنے لگے لیکن اُس نے ہمت نہ ہاری۔
وہ ایک شہر پہنچی۔ وہاں شور اتنا تھا جیسے ہزاروں بھنورے ایک ساتھ گونج رہے ہوں۔ لوگ ایک دوسرے سے ٹکرا رہے تھے۔ کسی کو کسی کی فکر نہ تھی۔
مریم نے کئی لوگوں سے پوچھا،
"کیا آپ سلیم نام کے آدمی کو جانتے ہیں؟”
ہر بار جواب نفی میں ملا۔
بھوک نے اُس کا برا حال کر دیا۔ اُس نے دو دن سے کچھ نہ کھایا تھا۔ ایک ہوٹل کے باہر بیٹھی تو ایک بوڑھے شخص نے اُسے روٹی دی۔
"بیٹی، دنیا میں اچھے لوگ بھی ہوتے ہیں۔ ہمت مت ہارو۔”
یہ الفاظ مریم کے لیے ٹھنڈی ہوا کے جھونکے جیسے تھے۔
اگلے دن وہ ایک ریلوے اسٹیشن پہنچی۔ وہاں ایک فقیر بانسری بجا رہا تھا۔ اُس کی دُھن اداس پرندے کی آواز جیسی تھی۔
فقیر نے مریم کو غور سے دیکھا۔
"بیٹی، تم کسی کو ڈھونڈ رہی ہو؟”
مریم نے تصویر دکھائی۔
فقیر چونکا۔
"یہ آدمی تو میں نے برسوں پہلے دیکھا تھا۔ وہ دریا کنارے ایک بستی میں رہتا تھا۔”
مریم کی آنکھوں میں اُمید چمک اٹھی۔ وہ فوراً اُس بستی کی طرف روانہ ہو گئی۔
راستہ آسان نہ تھا۔ ایک جنگل پڑتا تھا۔ درخت لمبے دیووں کی طرح کھڑے تھے۔ ہوا سائیں سائیں کر رہی تھی۔ مریم ڈر گئی، مگر اُس نے دل مضبوط کیا۔
"ہمتِ مرداں، مددِ خدا۔”
اُس نے خود سے کہا۔
رات ہوئی تو بارش شروع ہو گئی۔ مریم ایک ٹوٹے ہوئے جھونپڑے میں چھپ گئی۔ اُس نے اپنے ابو کی تصویر سینے سے لگا لی۔ تصویر اُس کے لیے چراغ کی مانند تھی جو اندھیرے میں راستہ دکھا رہا تھا۔
صبح ہوئی تو وہ دریا کنارے آباد بستی میں پہنچ گئی۔ وہاں مٹی کے چھوٹے چھوٹے گھر تھے۔ بچے کھیل رہے تھے۔
مریم نے ایک عورت سے پوچھا،
"کیا یہاں سلیم نام کا شخص رہتا ہے؟”
عورت نے ایک جھونپڑی کی طرف اشارہ کیا۔
مریم کے قدم لرزنے لگے۔ اُس نے دھیرے سے دروازہ کھٹکھٹایا۔
اندر سے کمزور آواز آئی،
"کون ہے؟”
دروازہ کھلا تو ایک دبلا پتلا آدمی سامنے کھڑا تھا۔ اُس کے بال سفید ہو چکے تھے لیکن آنکھیں ویسی کی ویسی ہی تھیں۔
مریم کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
"ابو…”
آدمی جیسے پتھر کا ہو گیا۔ پھر اُس نے کانپتے ہاتھوں سے مریم کا چہرہ چھوا۔
"میری… مریم؟”
دونوں ایک دوسرے سے لپٹ کر رونے لگے۔ برسوں کی جدائی پگھل کر آنسوؤں میں بہہ گئی۔
سلیم نے بتایا:
"تمہاری ماں دولت کے پیچھے چلی گئی تھی۔ اُس نے مجھے تم سے ملنے نہ دیا۔ میں نے بہت تلاش کیا، مگر تم دونوں کہیں چلے گئے تھے۔”
مریم خاموشی سے سُنتی رہی۔ اُسے محسوس ہوا کہ دولت واقعی چمکتے ہوئے سانپ کی طرح ہوتی ہے، دور سے خوبصورت لگتی ہے مگر قریب جا کر ڈس لیتی ہے۔
سلیم بہت غریب تھا۔ وہ کشتی چلاتا تھا۔ اُس کا گھر چھوٹا تھا، مگر دل سمندر جیسا وسیع۔
کچھ دن بعد زبیدہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ وہ بھی بستی میں آ گئی۔ اُس کی آنکھوں میں پچھتاوا تھا۔
"مجھے معاف کر دو۔ میں دولت کی چکاچوند میں اندھی ہو گئی تھی۔”
مریم خاموش رہی۔ پھر اُس نے اپنی ماں کا ہاتھ پکڑ لیا۔
"ماں، انسان غلطی کرتا ہے۔ مگر گھر ٹوٹ جائے تو دل بھی ٹوٹ جاتے ہیں۔”
زبیدہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
اُس دن دریا کے کنارے سورج بہت خوبصورت لگ رہا تھا۔ ایسے لگتا تھا جیسے آسمان نے اپنے سنہری ہاتھوں سے سب کے زخم سہلا دیے ہوں۔
مریم نے سیکھ لیا تھا کہ دُنیا میں دولت سب کچھ نہیں ہوتی۔ اصل دولت محبت، سچائی اور اپنے لوگ ہوتے ہیں۔ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔ ایک نہ ایک دن حقیقت سامنے آ ہی جاتی ہے۔
اس ملن کے بعد مریم کے ننھے گھر میں جہاں کبھی خاموشی بسی رہتی تھی، اب ہنسی کی آوازیں گونجنے لگیں۔ جیسے اندھیری رات میں ایک گم شدہ چراغ جل اُٹھا ہو۔

محسن خالد محسنؔ 

محسن خالد محسن

محمد محسن خالد (محسن خالد محسن) ؔ شاعر ،ادیب،محقق ،نقاد اور اُستاد ہیں۔ ان کے تین شعری مجموعے "کچھ کہنا ہے"،دُھند میں لپٹی شام اور"ت لاش" شائع ہو چکے ہیں۔ا نھوں نے کلاسیکی غزل میں "کلاسیکی غزل میں تلمیحات کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ" کے موضوع پرناردرن یونی ورسٹی نوشہرہ سے پی ایچ ۔ڈی(اُردو) 2024 میں کی ہے۔بہ حیثیت لیکچرار(اُردو) گورنمنٹ شاہ حسین گریجوایٹ کالج چوہنگ میں شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں۔ ان کے پنتیس سے زائد تحقیقی مقالات ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کے مصدقہ جنرلز میں شائع ہو چکے ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستان کے معروف ادبی رسائل وجرائد اوربرقی اخبارات و بلاگز میں ان کے متفرق موضوعات پر مضامین اور کالمز باقاعدگی سے شائع ہو تے رہتے ہیں۔ ادب،سماج، معاشرت،سیاست و حالاتِ پر ببانگِ دُہل اپنی رائے کا اظہارکرتے ہیں۔