مشینوں کے عہد میں انسان

ایک اور عمدہ تحریر از ایم اے دوشی

انسان کو ہمیشہ جواب کی تلاش رہی ہے۔ وہ سوال کرتا رہا اور کائنات اپنے راز سینے میں چھپائے خاموش کھڑی رہی۔ پھر ایک دن اس نے پہاڑوں سے باتیں کرنا شروع کر دیں۔ وہ آواز دیتا اور چند لمحوں بعد وہی آواز پلٹ کر اس تک آ جاتی۔ اس زمانے کا انسان شاید اس راز کو نہیں جانتا تھا مگر اسے اتنا ضرور محسوس ہوتا تھا کہ اس کی پکار کہیں سنی گئی ہے۔

وقت گزرتا گیا اور انسان سوال پوچھتا رہا۔ کبھی پتھر سے۔ کبھی آگ سے۔ کبھی ہوا سے اور کبھی سمندر سے۔ ہر سوال کے جواب میں اسے ایک نئی دریافت ملی۔ ایک نیا راستہ ملا۔ ایک نئی دنیا اس کے سامنے کھلتی چلی گئی۔

پتھر سے چنگاری نکالنے والا انسان شاید یہ تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ ایک دن وہ ایسی مشین بنا لے گا جو اس کی بات سنے گی۔ اس کے سوال کو سمجھے گی اور جواب بھی دے گی۔ مگر تاریخ کا سفر اکثر انسان کے تصور سے کہیں آگے نکل جاتا ہے۔

آج ہم مصنوعی ذہانت کے دور میں کھڑے ہیں۔ ایک ایسا دور جہاں مشینیں صرف حساب نہیں کرتیں بلکہ تحریر بھی لکھتی ہیں۔ تصویریں بھی بناتی ہیں۔ موسیقی بھی ترتیب دیتی ہیں اور ویڈیوز بھی تیار کرتی ہیں۔ بظاہر یہ سب کچھ ایک خواب کی مانند محسوس ہوتا ہے مگر یہ خواب اب حقیقت بن چکا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت اچانک آسمان سے نہیں اتری۔ یہ انسان کی صدیوں پر محیط جستجو کا نتیجہ ہے۔ یہ اسی سفر کا اگلا قدم ہے جو کبھی غاروں سے شروع ہوا تھا۔ فرق صرف یہ ہے کہ پہلے انسان فطرت کے راز دریافت کر رہا تھا اور آج وہ اپنی ذہانت کی نئی شکلیں تخلیق کر رہا ہے۔

چند برس پہلے تک ایک مضمون لکھنے کے لیے کئی کتابیں کھنگالنی پڑتی تھیں۔ ایک تصویر بنانے کے لیے گھنٹوں محنت کرنا پڑتی تھی۔ ایک گانے کی تیاری میں کئی لوگوں کا کردار ہوتا تھا۔ اب ایک کمپیوٹر اور چند ہدایات کے ذریعے بہت سا کام سر انجام دیا جا سکتا ہے۔

مجھے یاد ہے صحافت کے ابتدائی دنوں میں ایک مضمون لکھنے کے لیے کئی کئی گھنٹے لائبریریوں اور فائلوں میں گزارنے پڑتے تھے۔ کبھی ایک حوالہ ڈھونڈنے میں پورا دن لگ جاتا تھا۔ آج جب ایک سکرین پر چند لمحوں میں معلومات سامنے آ جاتی ہیں تو وقت کی اس تبدیلی پر حیرت ہوتی ہے۔ مگر اس حیرت کے باوجود مجھے محسوس ہوتا ہے کہ تحقیق کی اصل روح اب بھی انسان کی جستجو میں پوشیدہ ہے، کسی مشین میں نہیں۔ یہ سہولت یقیناً غیر معمولی ہے۔ خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو تخلیقی شعبوں سے وابستہ ہیں۔ ایک شاعر اپنا تخلیقی کام تصویری شکل میں ترتیب دے سکتا ہے۔ ایک صحافی تحقیق میں مدد حاصل کر سکتا ہے۔ ایک استاد اپنے طلبہ کے لیے بہتر مواد تیار کر سکتا ہے۔ ایک کاروباری شخص نئے امکانات تلاش کر سکتا ہے۔مگر ہر سہولت کے ساتھ ایک سوال بھی جنم لیتا ہے۔کیا یہ مشینیں انسان کی جگہ لے لیں گی؟

یہ سوال آج دنیا بھر میں زیر بحث ہے۔ گلوکار سوچ رہے ہیں کہ اگر مشین ان جیسی آواز پیدا کر سکتی ہے تو کل کیا ہوگا۔ مصور سوچ رہے ہیں کہ اگر ایک کمپیوٹر چند لمحوں میں تصویر بنا سکتا ہے تو فن کی تعریف کیا رہ جائے گی۔ لکھاری یہ جاننا چاہتے ہیں کہ الفاظ کی دنیا کس سمت جا رہی ہے۔میرے خیال میں اصل سوال یہ نہیں کہ مصنوعی ذہانت انسان کی جگہ لے گی یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ انسان اپنی جگہ کو کیسے محفوظ رکھے گا۔ایک مشین سے آپ بے ترتیب ہزار اشعار بھی لکھوا لینگے مگر وہ اس آنکھ کا آنسو کہاں سے لائے گی جو کسی جدائی کے بعد گرا ہو۔ وہ ہزار دھنیں بنا سکتی ہے مگر اس دل کی دھڑکن کہاں سے لائے گی جس نے پہلی محبت محسوس کی ہو۔ وہ لاکھوں الفاظ جمع کر سکتی ہے مگر زندگی کے زخم اور تجربے اس کے پاس نہیں ہوتے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں انسان اور مشین کے درمیان فرق باقی رہ جاتا ہے۔مصنوعی ذہانت علم تک رسائی آسان بنا سکتی ہے مگر حکمت نہیں دے سکتی۔ معلومات فراہم کر سکتی ہے مگر شعور پیدا نہیں کر سکتی۔ راستہ دکھا سکتی ہے مگر منزل کا انتخاب انسان ہی کو کرنا ہوگا۔

آنے والے برسوں میں تعلیم بدلے گی۔ صحافت بدلے گی۔ موسیقی بدلے گی۔ کاروبار اور طب کے شعبے بھی بدلیں گے۔ بہت سے کام آسان ہو جائیں گے اور بہت سی روایتی مہارتیں نئی شکل اختیار کر لیں گی۔ شاید کچھ پیشے ختم ہو جائیں اور کچھ نئے پیشے وجود میں آ جائیں۔یہ منظر نامہ نیا ضرور ہے مگر غیر معمولی نہیں۔ تاریخ کا ہر دور اپنے ساتھ ایسی تبدیلیاں لایا ہے۔ چھاپہ خانہ آیا تو دنیا بدل گئی۔ بجلی آئی تو زندگی بدل گئی۔ انٹرنیٹ آیا تو فاصلے سمٹ گئے۔ اب مصنوعی ذہانت آئی ہے تو کام کرنے کا انداز بدل رہا ہے۔

اس لیے ضروری ہے کہ ہم اس نئی حقیقت کو خوف کی نگاہ سے نہ دیکھیں۔ نہ اسے نجات دہندہ سمجھیں اور نہ تباہی کا پیش خیمہ۔ اسے ایک ایسے آلے کے طور پر سمجھیں جو انسان کے ہاتھ میں ہے اور جس کی سمت کا تعین بھی انسان ہی کرے گا۔جب کبھی مصنوعی ذہانت کے بارے میں سوچتا ہوں تو مجھے پہاڑوں کی وہی بازگشت یاد آتی ہے۔ انسان نے ایک آواز لگائی تھی اور جواب ملا تھا۔ آج بھی انسان سوال کر رہا ہے اور جواب پا رہا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اب پہاڑوں کی جگہ سکرینیں ہیں اور بازگشت کی جگہ مصنوعی ذہانت نے لے لی ہے۔مگر سوال آج بھی انسان کا ہے اور جواب کی ذمہ داری بھی آخرکار انسان ہی کے کندھوں پر ہے۔

ایم اے دوشی

ایم اے دوشی

ایم اے دوشی اردو شاعر | مصنف | براڈکاسٹر | صحافی- چیئرمین صدائے سخن پروفائل نام: ایم اے دوشی پیشہ: اردو شاعر | مصنف | براڈکاسٹر | صحافی عہدہ: چیئرمین – صدائے سخن تاریخ پیدائش : 1988 مقام: اسلام آباد، پاکستان