کچھ نہیں ہوش مجھے، ہاتھ میں زر کچھ بھی نہیں
واقعی، حسنِ عمل، حسنِ نظر کچھ بھی نہیں
اپنے ماحول کے بارے میں خبر کچھ بھی نہیں
ہجر کی رات ہوں امیدِ سحر کچھ بھی نہیں
مہرباں ہوتے نہیں رازِ نہانی مجھ پر
یا نبی! کھول دیں اب میری کہانی مجھ پر
بس کہ اخلاص و محبت سے ملائیں مجھ کو
موسم کرب کے تیروں سے بچائیں مجھ کو
مقصدِ کون و مکاں سارے بتائیں مجھ کو
زندگی بھر کے لئے ہوش میں لائیں مجھ کو
آپ کے در کی اگر خاک عطا ہو جائے
پھر یقیناً میری معراجِ ثنا ہو جائے
شاعر: سہیل احمد صمیم
کتاب: الی النور