مسدس نعت "معراجِ ثنا”

سہیل احمد صمیمؔ کی نعتیہ نظم

کچھ نہیں ہوش مجھے، ہاتھ میں زر کچھ بھی نہیں
واقعی، حسنِ عمل، حسنِ نظر کچھ بھی نہیں
اپنے ماحول کے بارے میں خبر کچھ بھی نہیں
ہجر کی رات ہوں امیدِ سحر کچھ بھی نہیں

مہرباں ہوتے نہیں رازِ نہانی مجھ پر
یا نبی! کھول دیں اب میری کہانی مجھ پر

بس کہ اخلاص و محبت سے ملائیں مجھ کو
موسم کرب کے تیروں سے بچائیں مجھ کو
مقصدِ کون و مکاں سارے بتائیں مجھ کو
زندگی بھر کے لئے ہوش میں لائیں مجھ کو

آپ کے در کی اگر خاک عطا ہو جائے
پھر یقیناً میری معراجِ ثنا ہو جائے

شاعر: سہیل احمد صمیم
کتاب: الی النور

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔