مسدس نعت "معراجِ ثنا”

سہیل احمد صمیمؔ کی نعتیہ نظم

کچھ نہیں ہوش مجھے، ہاتھ میں زر کچھ بھی نہیں
واقعی، حسنِ عمل، حسنِ نظر کچھ بھی نہیں
اپنے ماحول کے بارے میں خبر کچھ بھی نہیں
ہجر کی رات ہوں امیدِ سحر کچھ بھی نہیں

مہرباں ہوتے نہیں رازِ نہانی مجھ پر
یا نبی! کھول دیں اب میری کہانی مجھ پر

بس کہ اخلاص و محبت سے ملائیں مجھ کو
موسم کرب کے تیروں سے بچائیں مجھ کو
مقصدِ کون و مکاں سارے بتائیں مجھ کو
زندگی بھر کے لئے ہوش میں لائیں مجھ کو

آپ کے در کی اگر خاک عطا ہو جائے
پھر یقیناً میری معراجِ ثنا ہو جائے

شاعر: سہیل احمد صمیم
کتاب: الی النور

سہیل احمد صمیم

سہیل احمد صمیم (اردو اور ہندکو شاعر/ادیب)۔ تعلیمی قابلیت: بی بی اے آنرز (ایچ آر ایم)، ایل ایل بی اور ایم اے اردو گولڈ میڈلسٹ۔ شائع شدہ کتاب کا نام: اِلی النُور (نعتیہ شاعری)۔ زیرِ طبع کتب۔ 1. لایزال (دوسرا نعتیہ مجموعہ )۔ 2. خواب کہاں جاتی ہیں (اردو شعری مجموعہ ) 3. ہزار میں فارسی زبان و ادب کی روایت (تحقیق) دیگر حوالہ جات کالم نگاری : ادبی، تحقیقی اور تخلیقی مضامین مختلف ادبی رسائل اور پلیٹ فارمز میں شائع ہو تے رہتے ہیں۔ آپڑی ہندکو سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے بانی بھی ہیں جہاں ہندکو زبان و ادب کی ترویج و ترقی کے لئے کوشاں ہیں۔