ماں : رحمتوں کا سائباں

بشریٰ سعید عاطف کی ایک اردو نظم

محبت کا جہاں لکھا، وفاؤں کا سماں لکھا
ہوا ربّ مہرباں میں نے کبھی جو حرفِ ماں لکھا

ہمیشہ عظمتوں کا ماں کو میں نے اک نشاں دیکھا
محبت کے ستارے کو ہمیشہ ضوفشاں لکھا

یہ میں نے معجزہ ماں کی دعا کا بالیقیں پایا
مقدّر میں مرے ربّ نے زمیں کو آسماں لکھا

کبھی ہوتی نہیں ناراض، ہو کر بھی خفا مجھ سے
خدا کے بعد ماں کو رحمتوں کا سائباں لکھا

سلامت رکھے میرا ربّ سدا سایہ مری ماں کا
ہمارے گھر کی زینت کو چمن کا باغباں لکھا

کروں خدمت دل و جاں سے، رہے راضی خدا میرا
خدا نے ماں کے ہی قدموں تلے باغِ جناں لکھا

خطاؤں پر مری کرتی رہی ہے در گزر ہر پل
مری نوکِ قلم نے ماں کو، بشرؔیٰ! مہرباں لکھا

بشریٰ سعید عاطف

بشریٰ سعید عاطف

بشریٰ سعید عاطف ایک باصلاحیت اور ہمہ جہت پاکستانی شاعرہ ہیں جو اس وقت یورپ میں مقیم ہیں۔ وہ ادبی دنیا میں اپنی منفرد اور مؤثر آواز کے ذریعے ایک نمایاں مقام رکھتی ہیں۔ ان کی شاعری میں مشرقی احساسات اور مغربی تجربات کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے، جو نہ صرف ثقافتی ہم آہنگی بلکہ انسانی احساسات کی گہرائی کو بھی نمایاں کرتا ہے۔ ان کے اشعار میں شناخت، ہجرت، ثقافتی تنوع، اور روحانیت جیسے موضوعات ایک خوبصورت شعری توازن کے ساتھ جلوہ گر ہوتے ہیں۔ بشریٰ سعید عاطف کی تخلیقات میں پاکستان کی روایتی شعری فضا اور یورپ کے جدید فکری پسِ منظر کا امتزاج واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے۔ وہ فطرت کی خوبصورتی، انسانی رشتوں کی نزاکت، اور یورپی شہروں کی دلکشی کو اپنے اشعار میں نہایت لطیف انداز میں پیش کرتی ہیں۔ ان کی شاعری دل سے نکلتی ہے اور سیدھی دل میں اتر جاتی ہے — چاہے وہ وطن کی یاد ہو، محبت کی لطافت، یا زندگی کے فلسفیانہ پہلو۔ بشریٰ سعید عاطف نے نہ صرف آزاد نظم اور غزل میں اپنی فکری و تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کیا ہے بلکہ انہوں نے حمد، نعت، منقبت، سلام، مرثیہ، دوہے، ٹپے، اور کلاسیکی و جدید نظم کے میدان میں بھی طبع آزمائی کی ہے۔ ہر صنف میں ان کی انفرادیت، زبان پر قدرت، اور جذبے کی شدّت نمایاں نظر آتی ہے۔ خاص طور پر ان کی نعتیہ شاعری میں عقیدت و محبت کا ایسا گہرا رنگ جھلکتا ہے جو قاری کے دل کو چھو لیتا ہے۔ ان کی شاعری صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ احساسات کا سفر ہے — ایک ایسا سفر جو قاری کو سرحدوں سے ماورا کر کے انسانیت، محبت، اور روحانیت کی وسعتوں میں لے جاتا ہے۔ اپنی شاعری کے ذریعے وہ مشرق و مغرب کے درمیان ایک ادبی پل تعمیر کر رہی ہیں جو تہذیبی فاصلوں کو مٹاتا اور دلوں کو قریب لاتا ہے۔