لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

ایک اردو غزل از رشید حسرت

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں
پروئے جتنے محبّت کے ہار کچھ بھی نہیں

کیا ہے فیصلہ سردار! تو نے سن کے اُسے
کھڑا ہوں میں جو بدن تار تار، کچھ بھی نہیں؟

سمیٹ لے وہ اگر ایک بار آ کے مجھے
تمام عمر کیا انتظار کچھ بھی نہیں

میں بار بار معالج کو نبض دکھلاؤں
کہے غرور سے وہ بار بار، "کچھ بھی نہیں”

اکیلا میں ہوں بہت ان کا مان توڑنے کو
مقابلے میں اتر آئیں چار، کچھ بھی نہیں

نہیں پتہ کہ قِطار البعیر کیا شے ہے
ہے ایک کیف سا، لیل و نہار کچھ بھی نہیں

کہا ہے کیا تمہیں ایسا کہ تن کے بیٹھے ہو
کیا تھا غیروں پہ جو انحصار، کچھ بھی نہیں؟

وہ خود نمائی کو کچھ بولتا ہی رہتا ہے
نہیں ہے بات کوئی، میرے یار کچھ بھی نہیں

یہ خود پرست سے فنکار روندنے کو ہیں
رشیدؔ اب تو ہمیں سازگار کچھ بھی نہیں

رشید حسرتؔ، کوئٹہ
۱۲ اپریل، ۲۰۲۶

رشید حسرت

رشید حسرت نے 1981 سے باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا۔ ان کی شاعری اخبارات، ادبی رسائل اور کل پاکستان و کل پاک و ہند مشاعروں میں شائع اور پیش ہوتی رہی۔ پی ٹی وی کوئٹہ کے مشاعروں میں ان کی شرکت ان کی تخلیقی شناخت کا آغاز تھی، مگر بعد میں انہوں نے اجارہ داریوں اور غیر منصفانہ رویّوں سے تنگ آ کر اس نظام سے علیحدگی اختیار کی۔ ان کے پانچ شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ سب کے سب اپنی ذاتی جیب سے، جو ان کے خلوص اور ادب سے والہانہ لگاؤ کی علامت ہیں۔ رشید حسرت اس طبقے کے نمائندہ شاعر ہیں جنہوں نے ادب کو کاروبار نہیں بلکہ عبادت سمجھا۔