رب کو مانتے ہیں ہم مگر مانتے نہیں رب کی
کرتے ہیں دل کی مگر سنتے رہتے ہیں سب کی
کہنے کو تو ہر کوئی کہتا ہے میں انسان ہوں
مگر ختم ہوچکی ہے یہاں تو انسانیت کب کی
ہمیں دنیا میں بھیجا گیا تھا کیوں اور ہم
نافرمانی کرتے جارہے ہیں یاروں اپنے رب کی
فرض اور سنتوں کی باتیں کرتے رہتے ہیں ہم
کرتے نہیں ہیں ہم کبھی باتیں یہاں ادب کی
مسلمان ہوکر بھی گناہوں میں مصروف ہیں ہم
ایسی تربیت تو ہرگز نہیں ہے ہمارے مذہب کی
بروز محشر کیا ہوگا جب سامنا ہوگا رب سے
یہاں کہتے ہیں کہ دیکھا جائے گا تب کے تب کی
دنیا میں جس کی مشابہت کی تو بروز محشر ہم
اٹھیں گے ان کے ساتھ بدقسمتی ہے یہ سب کی
خواہش نفس میں یوسف کیا کر گئے ہیں ہم
فرمانبرداری کرگئے شیطان کی نافرمانی رب کی
محمد یوسف میاں برکاتی