جس نے مجھے بیکار میں

ایک اردو غزل از رشید حسرت

جس نے مجھے بیکار میں بے کل کیا ہے شکریہ
دل کو عجب بے کیفیوں سے شل کیا ہے شکریہ

کوئی مجھے صورت نظر آتی تو میں بھی بُھولتا
پھر تم نے تازہ زخم کو پل پل کیا ہے شکریہ

کیسی انا ہم تم ہمیشہ ایک تھے، سو ایک ہیں
اچھا ہؤا دستار کا آنچل کیا ہے شکریہ

میں اور مرا بھائی بہت عرصہ ہؤا ناراض تھے
تم نے ہمارا مسئلہ جو حل کیا ہے شکریہ

آنکھیں مری بنجر زمینوں کی طرح ویران تھیں
احساں کیا دلدار نے جل تھل کیا ہے شکریہ

مالی مشقت کرتا آیا ہے بڑے ہی شوق سے
حاصل ابھی اشجار سے یہ پھل کیا ہے شکریہ

ہڈی مری سرمہ بنی تو ماس کس کھاتے میں تھا
ساجن! مری چمڑی کو بھی چھاگل کیا ہے شکریہ

ہوتے اگر ہم ہوش میں ڈستا ہمیں ہر پل خرد
جس نے اڑا کے ہوش یوں پاگل کیا ہے شکریہ

اپنی اداسی میں کہاں لے کر چلا جاتا رشیدؔ
میرے چہار اطراف کو جنگل کیا ہے شکریہ

رشید حسرتؔ، کوئٹہ
۰۴ مئی، ۲۰۲۶

رشید حسرت

رشید حسرت نے 1981 سے باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا۔ ان کی شاعری اخبارات، ادبی رسائل اور کل پاکستان و کل پاک و ہند مشاعروں میں شائع اور پیش ہوتی رہی۔ پی ٹی وی کوئٹہ کے مشاعروں میں ان کی شرکت ان کی تخلیقی شناخت کا آغاز تھی، مگر بعد میں انہوں نے اجارہ داریوں اور غیر منصفانہ رویّوں سے تنگ آ کر اس نظام سے علیحدگی اختیار کی۔ ان کے پانچ شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ سب کے سب اپنی ذاتی جیب سے، جو ان کے خلوص اور ادب سے والہانہ لگاؤ کی علامت ہیں۔ رشید حسرت اس طبقے کے نمائندہ شاعر ہیں جنہوں نے ادب کو کاروبار نہیں بلکہ عبادت سمجھا۔