صدی سے ہم سرکتے آ رہے ہیں

ایک اردو غزل از رشید حسرت

صدی سے ہم سرکتے آ رہے ہیں
خزاں آئینے تکتے آ رہے ہیں
یہاں سے ہم گئے تھے مسکراتے
وہاں سے اب سسکتے آ رہے ہیں
کہیں کھل جائے ناں چہرہ ہمارا
ہم اپنے عیب ڈھکتے آ رہے ہیں
جہاں لگنی ندا کی تھی علامت
وہاں شعروں میں سکتے آ رہے ہیں
گریزاں ہیں کہ رستے میں ہمارے
کئی دل جو دھڑکتے آ رہے ہیں
نجانے کس نگر کے وہ ہیں باسی کہ
خوش بو سے مہکتے آ رہے ہیں
نہیں مزدور کو مزدوری، بچے
نگاہوں میں بلکتے آ رہے ہیں
نشست اپنی اسے بھائی نہ شائد
مری جانب کھسکتے آ رہے ہیں
نگاہیں منتظر تھیں جس کی حسرت
وہ دیکھو تو مٹکتے آ رہے ہیں

رشید حسرت

رشید حسرت

رشید حسرت نے 1981 سے باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا۔ ان کی شاعری اخبارات، ادبی رسائل اور کل پاکستان و کل پاک و ہند مشاعروں میں شائع اور پیش ہوتی رہی۔ پی ٹی وی کوئٹہ کے مشاعروں میں ان کی شرکت ان کی تخلیقی شناخت کا آغاز تھی، مگر بعد میں انہوں نے اجارہ داریوں اور غیر منصفانہ رویّوں سے تنگ آ کر اس نظام سے علیحدگی اختیار کی۔ ان کے پانچ شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ سب کے سب اپنی ذاتی جیب سے، جو ان کے خلوص اور ادب سے والہانہ لگاؤ کی علامت ہیں۔ رشید حسرت اس طبقے کے نمائندہ شاعر ہیں جنہوں نے ادب کو کاروبار نہیں بلکہ عبادت سمجھا۔