یہ سوال پاکستان جیسے ملک میں صرف ایک سوال نہیں بلکہ ایک بھنور ہے جس میں تاریخ، سیاست، خوف، طاقت اور حُب الوطنی سب ایک ساتھ گردش کرتے ہیں۔ پاکستان کی زمین جس جغرافیائی خطے میں واقع ہے وہاں ہوا بھی پُرسکون نہیں چلتی۔ مشرق میں بھارت جیسا طاقتور پڑوسی ہے۔ مغرب میں افغانستان کی غیر مستحکم صورتحال ہے۔ سرحدوں پر دہشت گردی کے سائے ہیں اور عالمی طاقتوں کے مفادات کسی شطرنج کی بساط کی طرح پورے خطے پر پھیلے ہوئے ہیں۔ ایسے میں فوج صرف بندوق اُٹھائے سپاہیوں کا نام نہیں بلکہ ریاست کی ایک مضبوط دیوار سمجھی جاتی ہے۔
پاکستان کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ پاک فوج نے ملک کے دفاع میں اہم کردار ادا کیا.1948,1965,1971 کی جنگ ہو یا دہشت گردی کے خلاف آپریشنز؛ پاک فوج نے ہر محاذ پر بے شمار قربانیاں دیں۔ شمالی علاقوں کی برفانی چوٹیاں ہوں یا بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑ؛بہادر سپاہی جان ہتھیلی پر رکھ کر فرض نبھاتے ہیں۔ جنرل راحیل شریف کے دور میں "ضربِ عضب” اور "رد الفساد” جیسے آپریشنز کو عالمی سطح پر بھی سراہا گیا۔ اقوام متحدہ کی مختلف رپورٹس میں پاکستان کی فوج کو دُنیا کی بڑی اور پیشہ ور افواج میں شمار کیا گیا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں فوجیوں کی شہادت اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ اس ادارے نے اپنی جانوں کی قیمت پر ملک کو سنبھالا۔
اس کے برعکس تصویر کا دوسرا رُخ یہ ہے کہ پاکستان میں فوج پر یہ الزام بھی لگایا جاتا ہے کہ اس نے سیاست میں بار بار مداخلت کی۔ جنرل ایوب خان سے لے کر جنرل ضیا الحق اور جنرل پرویز مشرف سے فیلڈ مارشل عاصم منیر تک سیاست کے دنگل میں فوج کا کردار ہمارے سامنے ہے۔ بعض ناقدین کہتے ہیں کہ جب بھی جمہوریت اپنے قدم جمانے لگتی ہے تو طاقت کے ایوانوں میں ہلچل شروع ہو جاتی ہے۔ سیاست دان اکثر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اصل اقتدار عوام کے منتخب نمائندوں کے پاس نہیں بلکہ کہیں اور موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی سیاست میں "خلائی مخلوق” اور "اسٹیبلشمنٹ” جیسے الفاظ عام ہوئے۔
یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ کمزور سیاسی نظام نے بھی فوج کو طاقتور بنایا۔ جب سیاست دان آپس میں دست و گریباں ہوں، کرپشن کے الزامات کی گونج ہو، ادارے کمزور کیے جائیں اور عوام مہنگائی و بے روزگاری کے ہاتھوں پِس جائیں تو ایسے میں لوگ ایک مضبوط ادارے کی طرف دیکھنے لگتے ہیں۔ یوں فوج رفتہ رفتہ صرف دفاعی ادارہ نہیں رہی بلکہ ریاستی استحکام کی علامت بن چکی ہے۔ پاکستان میں اکثر لوگ یہ مثال دیتے ہیں کہ اگر فوج نہ ہوتی تو ملک شام یا لیبیا جیسی صورتحال کا شکار ہو جاتا۔ اس کے برعکس دوسرا طبقہ یہ کہتا ہے کہ اگر جمہوری نظام کو مکمل آزادی ملتی تو ملک زیادہ مضبوط ہوتا۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی میں بھی فوج کا کردار ہمیشہ اہم رہا ہے۔ امریکہ کے ساتھ تعلقات ہوں،افغانستان کی جنگ ہو، چین کے ساتھ اسٹریٹیجک شراکت داری ہو یا بھارت کے ساتھ کشیدگی۔ ان اہم فیصلوں میں عسکری قیادت کو مرکزی حیثیت حاصل رہی۔امریکہ ایران جنگ میں سب نے فوج کی طاقت،مداخلت،حکمت اور طرزِ ثالثی کو دیکھ لیا ۔بعض ماہرین کے مطابق پاکستان کی جغرافیائی صورتحال ایسی ہے جہاں سویلین حکومت اکیلے دفاعی پالیسی نہیں چلا سکتی۔ جبکہ اس بیانیے کے مخالف ماہرین کا کہنا ہے کہ خارجہ پالیسی پر ضرورت سے زیادہ عسکری رسوخ جمہوری ارتقا کو کمزور کرتا ہے۔
سیاست دان عوام کو فوج کے خلاف کیوں بھڑکاتے ہیں؟ اس سوال کا جواب بھی سیدھا نہیں۔ بعض سیاست دان واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی حکومتوں کو غیر جمہوری قوتوں نے کمزور کیا۔ جبکہ کچھ رہنما اقتدار سے محرومی کے بعد فوج پر تنقید کو سیاسی ہتھیار بنا لیتے ہیں۔ یہ کھیل کسی رسہ کشی سے کم نہیں جہاں ایک طرف طاقتور ادارہ ہے اور دوسری طرف اقتدار کے بھوکے سیاسی قافلے۔ عوام اس کشمکش میں پِس جاتے ہیں۔ پاکستان کی یہ تاریخ رہی ہے کہ کبھی سیاست دان ہیرو بن جاتے ہیں اور کبھی فوج کو نجات دہندہ قرار دیا جاتا ہے۔
پاکستانی عوام کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اس پیچیدہ صورتحال میں کس طرف کھڑے ہوں۔ اگر فوج کی حمایت کریں تو بعض لوگ انہیں اندھا "قوم پرست” کہتے ہیں اور تنقید کریں تو غداری کے فتوے سننے پڑتے ہیں۔ حب الوطنی کا مطلب کسی ایک ادارے یا شخصیت کی غیر مشروط حمایت نہیں بلکہ ملک کی بہتری کی خواہش ہے۔ ایک باشعور پاکستانی کو یہ سمجھنا ہوگا کہ فوج بھی ریاست کا ادارہ ہے اور سیاست دان بھی اسی نظام کا حصہ ہیں۔ دونوں کی غلطیوں پر سوال اُٹھانا اور دونوں کی قربانیوں کو تسلیم کرنا ہی متوازن رویہ ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ فوج کے جوان اسی مٹی کے بیٹے ہیں۔ وہ کسی دوسرے سیارے سے نہیں آتے۔ ان کے گھروں میں بھی مائیں روتی ہیں اور بچے انتظار کرتے ہیں۔ اسی طرح ہر سیاست دان بھی پوری طرح قصور وار نہیں ہوتا۔ اس نظام میں اچھے اور برے لوگ ہر جگہ موجود ہیں۔ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب عوام کو نفرت کی چکی میں پیسا جانے لگتا ہے۔
پاکستان اس وقت ایک نازک دوراہے پر کھڑا ہے۔ معیشت کمزور ہے، سیاسی عدم استحکام بڑھ رہا ہے اور نوجوان مایوسی کا شکار ہیں۔ ایسے میں فوج اور سیاست دانوں کی باہمی چپقلش جلتی پر تیل ڈالنے کے مترادف ہے۔ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ قومیں نفرت سے نہیں بلکہ اداروں کے توازن سے مضبوط ہوتی ہیں۔ اگر فوج صرف دفاع تک محدود رہے اور سیاست دان دیانت داری سے حکومتی معاملات کی انجام دہی کو یقینی بنائیں تو شاید پاکستان ایک مضبوط جمہوری ریاست بن سکے۔
ایک عام پاکستانی کو چاہیے کہ وہ جذبات کے سیلاب میں بہنے کی بجائے شعور کی شمع جلائے۔ سوشل میڈیا کی افواہوں کو حرفِ آخر نہ سمجھے۔ ہر تنقید کو غداری اور ہر حمایت کو غلامی نہ کہے۔ وطن صرف نعروں سے نہیں بنتا بلکہ برداشت اور شعور سے بنتا ہے۔ حُب الوطنی کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے ملک کے اداروں کو مضبوط دیکھنے کی خواہش پالنے کے ساتھ انصاف اور جمہوریت کی آواز کو بھی توانا رکھیں۔
تاریخ کے اسباق سے یہ پتہ چلتا کہ جس قوم میں سوال مر جائیں وہاں اندھیرے جنم لیتے ہیں اور جہاں صرف نفرت بولے وہاں ریاستیں ریت کی دیوار بن جاتی ہیں۔
محسن خالد محسنؔ