نہیں کھانے کا گھر میں

ایک اردو غزل از رشید حسرت

نہیں کھانے کا گھر میں اب کوئی سامان لے دے کر

اٹھانا پڑ گیا آخر ترا احسان لے دے کر

یہاں ہر گام پر مشکل کوئی درپیش آئی ہے

فقط اک موت ہی آئی نظر آسان لے دے کر

کمایا کچھ نہیں اچھا عمل اس دارِ فانی میں

فقط پہلو میں رکھا ہے دلِ ویران لے دے کر

میں جس کے واسطے چیخوں گا چلّاؤں گا جلسے میں

کرے گا کیا، (فقط اک جھوٹ کا اعلان) لے دے کر

بڑا بے باک شاعر ہے گرفتاری ضروری ہے

کسی دن آ ہی جائے گا کوئی فرمان لے دے کر

مجھے اپنی طرح تو نے بکاؤ مال سمجھا ہے

نہیں بکنا کسی صورت بھلی لے جان لے دے کر

ترے بچوں کو بہلانا مرے دو وقت کی روٹی

ترا گھر چھوڑ جاؤں گا میں بھائی جان لے دے کر

کسی کی سرد مہری نے ہمیں بے حال کر ڈالا

ہمیں کرنی پڑی ہے زندگی قربان لے دے کر

شریفوں نے کبھی لوٹا کبھی زردار قابض تھے

وطن کو بیچ کھائے گا ابھی عمران لے دے کر

اندھیروں کی حکومت ہے تنزل کا زمانہ ہے

ہمیں غاروں پہ لائیں گے سیاست دان لے دے کر

کہا بھائی نے حسرتؔ آؤ گھر تقسیم کرتے ہیں

مرے حصے میں آیا ہے فقط دالان لے دے کر

رشید حسرتؔ

٢١، نومبر٢٠٢٥

رشید حسرت

رشید حسرت نے 1981 سے باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا۔ ان کی شاعری اخبارات، ادبی رسائل اور کل پاکستان و کل پاک و ہند مشاعروں میں شائع اور پیش ہوتی رہی۔ پی ٹی وی کوئٹہ کے مشاعروں میں ان کی شرکت ان کی تخلیقی شناخت کا آغاز تھی، مگر بعد میں انہوں نے اجارہ داریوں اور غیر منصفانہ رویّوں سے تنگ آ کر اس نظام سے علیحدگی اختیار کی۔ ان کے پانچ شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ سب کے سب اپنی ذاتی جیب سے، جو ان کے خلوص اور ادب سے والہانہ لگاؤ کی علامت ہیں۔ رشید حسرت اس طبقے کے نمائندہ شاعر ہیں جنہوں نے ادب کو کاروبار نہیں بلکہ عبادت سمجھا۔