دریچے درد کے جب وا ہوئے

ایک اردو غزل از رشید حسرت

دریچے درد کے جب وا ہوئے پھسلتی گئی
اداس رات کئی زاویوں میں ڈھلتی گئی

اسے پتہ ہی نہ تھا راہ قتل گاہ کی ہے
وہ بے نیاز مگر راستے پہ چلتی گئی

دیے ہواؤں میں میں نے جلا کے رکھ چھوڑے
مگر یہ بات مرے دشمنوں کو کھلتی گئی

چہار سو جو حرارت حصار تانے رہی
ڈلی تھی برف کی یہ زندگی پگھلتی گئی

نظر کے وار سے توبہ ہے جیسے ناگن ہو
کہ جو بھی سامنے آتا گیا نگلتی گئی

وہ گفتگو میں تھے مصروف اور بات مری
ہزار کوششوں کے باوجود ٹلتی گئی

رشیدؔ فکر تری مجھ کو کھائے جاتی ہے
لگا ہے روگ یہ کیسا؟ جوانی گلتی گئی

رشید حسرتؔ، مِٹھڑی

رشید حسرت

رشید حسرت نے 1981 سے باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا۔ ان کی شاعری اخبارات، ادبی رسائل اور کل پاکستان و کل پاک و ہند مشاعروں میں شائع اور پیش ہوتی رہی۔ پی ٹی وی کوئٹہ کے مشاعروں میں ان کی شرکت ان کی تخلیقی شناخت کا آغاز تھی، مگر بعد میں انہوں نے اجارہ داریوں اور غیر منصفانہ رویّوں سے تنگ آ کر اس نظام سے علیحدگی اختیار کی۔ ان کے پانچ شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ سب کے سب اپنی ذاتی جیب سے، جو ان کے خلوص اور ادب سے والہانہ لگاؤ کی علامت ہیں۔ رشید حسرت اس طبقے کے نمائندہ شاعر ہیں جنہوں نے ادب کو کاروبار نہیں بلکہ عبادت سمجھا۔