میرا بچپن نگر

محسن خالد محسنؔ کی ایک اردو تحریر

بچپن سبھی کو عزیز ہوتا ہے۔مجھے بھی عزیز ہے۔ یہ تو یاد نہیں کہ کب شعور سنبھالا اور بچپن کا ساتھ کس موڑ پر چھوٹا۔تاہم کچھ کچھ یاد ہے کہ ایک پرانا بڑاسا کمرہ ہے جسے دیہات میں عام طور پر بیٹھک کہا جاتا ہے۔ اس میں دادی اماں کا ایک بڑا سا پلنگ ہے تو تقسیمِ ہند سے قبل کا ہے اور اب بھی گھر میں موجود ہے۔

اُس پلنگ پر دادی اماں تشریف فرما ہیں اور ساتھ دو چھوٹی چارپائیاں ہیں جن میں ایک پر میں سوتا ہوں اور دوسری پر بڑے بھائی سویا کرتے تھے۔ بڑے بھائی بچپن سے ہی تھوڑا موٹا دماغ رکھتے تھے اس لیے داد ی کی اکثر جھڑکیاں کھاتے ہیں اور ہمیں ذہین سمجھا جاتا تھا اور دادی کی قُربت بلکہ گود میں ہی رہتا تھا۔ موٹے دماغ والا اب کہیں سے کہیں بڑھ گیا اور میں پیچھے رستہ دیکھتا رہ گیا۔ ایسا چھوٹے چھوٹے قصبوں میں اکثر ہوتا ہے ۔ذہین اور سمجھدار وقت کے ساتھ بے وقوف ٹھہرایا جاتا ہے جبکہ موٹے دماغ والا بڑے معرکے کا فاتح گردانا جاتا ہے۔

یہ دیہات کی ایک عجیب سی رسم ہے کہ والدین ذہین اور چالاک قسم کے بیٹے کو اپنی قُربت کے لیے منتخب نہیں کرتے بلکہ سیدھے سبھاؤ والے لڑکے کا انتخاب کرتے ہیں جو کام چور،کاہل نکما اور جھگڑا لو قسم کا ہوتا ہے۔ بہت دیر بعد جا کر یہ سمجھ آیا کہ ذہین وفطین نے بہت جلد شعور سنبھالنے اور تعلیم حاصل کرنے کے بعد شہر کی خوراک بننے نکل جانا ہے اور پیچھے رہ جانا ہے اُس نے جس نے والدین کی ناک میں دم کر رکھا ہوتا ہے۔

دراصل ایسے بیٹے پیدا ہونے پر والدین کو زیادہ خوشی ہوتی ہے کیوں کہ وہ اپنے والدین کے انتہائی فرماں بردار ہوتے ہیں اور شریکا برادری کے سامنے ان کی جھوٹی ناک نہیں لگنے دیتے۔ ہر محاذ پر والدین کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں جبکہ پڑھے لکھے اور ذہین بچے والدین کو سمجھانے لگتے ہیں کہ ابا جی کیا کر رہے ہیں چھوڑیں یہ سب ،آپ میرے ساتھ شہر چلیں اور انھیں زبردستی بس اپنے ساتھ لے جانی کی پڑتی رہتی ہے اور شہر میں بھی اپنی مصروف ترین زندگی میں ان کے پاس آدھ گھنٹہ والدین کے لیے نکلتا ہے ۔

یہ والدین بہت جلد اُکتا کر واپس گاؤں لوٹ آتے ہیں اور شریکے برادری کے برسوں پرانے اختلافات کو پھر سے ہوا دیتے ہیں اور گروپ و تفرقہ بازی میں پڑ کر تھانے عدالت اور پنچائیت کی مہمات کو انجام دینے میں مگن ہو جاتے ہیں۔ اس طر ح کی کھینچا تانی اور لڑائی جھگڑے اور ٹانگ کھینچنے ناپنے والی زندگی کا مزہ انھیں پانچ مرلہ کی قید زندگی میں کہاں نصیب ہوتا ہے۔ دیہات کے یہ شعور سنبھالنے کےبعد کی کہانی ہے۔

میں اکثر کہتا ہوں کہ دیہات کی راتیں بہت حسین اور دل آویز ہوتی ہیں جبکہ دن بڑے تلخ اور بیزار کُن ہوتے ہیں۔ دن چڑھتا ہے تو ڈھلنے کا نام ہی نہیں لیتا اور روشنی میں ہر اچھی چیز بُری اور بیزار دکھائی دیتی ہے۔رات کے وقت اندھیرا سب کے عیوب کو ایسے چھپا لیتا ہے جیسے فاختہ اپنے بچوں کو گود میں چھپا لیتی ہے۔ دیہات میں گھر کی کھلی چھت پر چودھیوں کا چاند دیکھنے کا اپنا ہی مزہ ہے۔ بندہ رانجھا بن کر اپنی ہیر کی پازیب کی جھنکار سننے کو ترستا ہے اور تہجد کے بعد کی وہ آہستہ آہستہ نرمل سی کومل بادِصبا کا اپنا ہی مزہ ہے۔ بندہ بغیر پیے مستی میں غرق ہوجاتا ہے۔ رہ رہ کر سابقہ محبتیں یاد آتی ہیں اور ہر وہ نقش جسے بھلا دیا گیا سامنے آکر کھڑا ہوجاتا ہے۔

دادی نانی سے سُنی ہوئی پریوں کی کہانیوں کا بادشاہ خود کو محسوس کرنا عام سی بات ہے۔ میری یاداشت میں سب سے پہلی کہانی اُس بادشاہ کے بیٹے کی محفوظ ہے جس نے اپنے اکلوتے بیٹے کی خوشی کے لیے اپنی بادشاہت تج دی تھی۔ بادشاہ کو بیٹے کی طرف سے خوشی عزیز تھی ۔بیٹے نے دمشق کی شہزادی سے شادی کی ضد میں کھانا پینا چھوڑ دیا تھا اور پھر بادشاہ نےمجبور ہو کر دمشق کےبادشاہ کے سامنے اپنی ساری بادشاہت رکھ دی۔ اس کےبعد کیا ہوا معلوم نہیں لیکن شعور سنبھالنے کےبعد دمشق کی ایک شہزادی ہمارے حصے میں بھی آتے آتے رہ گئی۔

دمشق کی شہزادیاں عام طور پر محلے کی ہمسایا ں ہوا کرتی ہیں ، دور پنگھٹ پر پانی بھرنے والی ہم جولیاں ہوا کرتی ہیں، اکھٹے سکول جانے والی کلاس فیلوز ہوا کرتی ہیں اور راستے میں بہانے سے مدد لینے والی اجنبی ہرنیاں ہوا کرتی ہیں۔ بچپن کا زمانہ ناقابلِ فراموش ہوتا ہے۔ دُنیا کا کوئی انسان ایسا نہیں جس نے اپنےجوان ہونے بعد سے مرنے تلک اپنے بچپن کو یاد نہ کیا ہو۔

سوشل میڈیا کی اسیر جینزی مخلوق کو کیا سمجھائیں کہ ہم نے موبائل سے باہر کی دُنیا کو کس طرح انجوائے کیا ہے۔ ایک بڑا سا صحن جس میں دسیوں چارپائیاں بچھی ہوئی ہیں۔ صحن کے ایک کونے میں پانی کے دو مٹکے بھرے ہوئے ہیں اور ایک کونے میں گائے بھینس بکریاں بندھی ہوئی ہیں اور ایک کونے میں کھانے پینے کا سارا سامان موجود ہے اور ایک کونے میں گنے، ترکاریاں، سبزی،پھل اور اناج دھرا ہوا ہے۔

گویا کل کائنات ایک صحن میں سمائی ہوئی ہے۔ جیسے جیسے دن ڈھلتا جاتا ہے ویسے ویسے صحن بھرتا جاتا ہے۔ شام کی اذان کے ساتھ گرم گرم کھانا چارپائیوں پر ٹھسے سے بیٹھے مرد و زن کے آگے ترتیب سے رکھ دیا جاتا ہے اور پھر کھلانے والی دادی نانی اور اماں کمال قسم کی خواتین تھیں جن کے ہاں گھر داری کا سلیقہ نسلوں سے بڑے وقار کے ساتھ منتقل ہوتا آیا ہے۔ ہماری دادی نانی اور اماں نے سینکڑوں لوگوں کو پالا پوسا اور ان کے اچھے بُرے میں ان کے ساتھ رہیں لیکن کبھی ایسا نہیں ہوا کہ اپنی خواہشو ں کا رونا رویا ہو اور یہ کہ کر گھر الگ کر لیا ہو کہ ہمیں تو کچھ ملا ہی نہیں۔

ہماری بیگم کے ستر پچھتر سلے ان سلے سوٹ الماریوں میں پڑے ہیں اور تین درج کے قریب جوتے بھی ہوں گے پھر بھی کہا جاتا ہے کہ میرے پاس پہنے کو کپڑا اور جوتی تک نہیں ہے۔یہ خواتین کا عالمی مسئلہ ہے،مرد اس خواہش کو نہیں سمجھ سکتے۔میں سوچتا ہوں، وہ کیسی خواتین تھیں جنھوں نے دو کپڑوں میں ساری زندگی گزار لی۔ ہماری پھوپھو کے پاس میڈورا کی ایک بیوٹی کریم نما پاؤڈر سا تھا۔ بیس سا ل تک وہ چلا ۔پتہ نہیں اس چھوٹی سی ڈبیا میں کیا تھا کہ سینکڑوں شادیاں اور خوشی کے مواقع ایک ڈبیہ نے بھگتا دئیے۔

لال رنگ کی ایک سُرخی دانی اور بارہ بارہ دونوں ہاتھوں کی چوڑیاں اور تھوڑ اسا مسکارہ بن یہی کچھ جہیز میں ہر عورت لے کر آتی تھی۔ جھانویں سے پاؤں کی میل اُتار کر برسوں پرانا جوتا نکال کر پہن لیا جاتا اور ایک بوسیدہ سی پرانی چادر اوڑھ کر ہر خوشی غمی دیکھ لی۔ یعنی ان عورتوں کے ہاں شعور نام کی کوئی چیز نہیں تھی ۔

یہ بات نہیں کہ غربت نے ان کی خواہشو ں کومار ڈالا تھا اور انھوں نے چادر کو اپنے پاؤں تک سمیٹ کر رکھا۔ ہماری داری آدھ مربعہ کی مالک تھیں اور نانی بھی ،اس کےباوجود انھوں نے وہی کچھ پہنچا جو ان کے خاوندوں نے لا کر دیا۔ ایک بات سب میں یکساں تھی۔ کچھ نہ ملنے کا گلہ صرف مرد کے آگے تنہائی میں کیا جاتا تھا اور اب ڈی جے کرائے پر منگوا کر پورا محلہ جمع کر کے کیا جاتا ہے۔

ہمارے پڑوس میں ایک آنٹی اب بھی رہتی ہیں بوڑھی ہو گئی ہیں لیکن مزاج پھوہڑ اب تک ہے۔ گھروں میں سہ پہر کو کھیلتے ہوئے اکثر میاں بیوی کی لڑائی سنا کرتا تھا۔ محترمہ ایک ہی بات اکثر کہا کرتی تھیں کہ تم نے مجھے دیا ہی کیا ہے۔ خاوند صاحب نے تنگ آکر ایک دن کہا کہ میں نے تمہیں پانچ بچے پیدا کر کے دئیے ہیں اور اس کے علاوہ ایک کلو آٹا جو تم اکیلی کھاتی ہو ،بیس برس روزانہ لا کر دیا ہے اور ڈیڑھ پاؤ سالن جو تمہاری ایک دفعہ خوراک کا حصہ ہے روزانہ برسوں لا کر دیا ہے اور یہ اور وہ ۔محترم نے بیوی کو پچاس عورتوں کے سامنے ایسا رُسوا کیا کہ پچاسوں عورتیں توبہ توبہ کر اُٹھیں مگر حیرت کی بات یہ کہ وہ محترمہ کہنے لگی کہ یہ توٹھیک ہے مگراس کے علاوہ کیا دیا ہے۔ سبھی عورتوں نے سر پکڑ لیا کہ اُف توبہ ہے۔اس قسم کے تماشے دیہاتوں میں اکثر ہوا کرتے ہیں۔ بات بچپن کی ہورہی ہے اور میں اور ہی قصے لے کربیٹھ گیا۔

ہمارا بچپن بہت اچھا گزرا۔ یوں سمجھ لیجیے کہ وہ سب کچھ ملا جس کی خواہش کی لیکن وقت پر نہیں ملا ،لیکن ملا ضرور۔ جیسے عیدی کبھی وقت پر نہیں ملی یعنی ابا ہمیں دس روپے دیا کرتے تھے اور ہم بیس مانگا کرتے تھے اور پھر سارا دن بیس کی ضد میں گزر جاتا اور رات کو بیس مل جاتے یعنی دونوں باپ بیٹا اپنی انا اور تکبر میں رہتے لیکن عید دونوں کی غارت ہوجاتی ۔

بچپن میں کسی دوست کے پاس کھلونا دیکھ کر جی للچاتا تو اماں سے ضد کرتا کہ مجھے بھی ویسا ہی لا کر دو تو اماں ایک بات ہی کہا کرتی تھی کہ تم کُدال لے کر آؤ ۔جو خزانہ تمہارے ابا نے دفن کیا ہوا ہے وہ نکالتے ہیں پھر ڈھیر سارے کھلونے لے لینا۔ ہر بار یہی کچھ سننے کوملا۔ ایک دن تنگ آکر میں کدال تایا جان کے ہاں سے مانگ کر لے آیا اور اماں سے کہنے لگا کہ بتاؤ اماں! کہاں خزانہ دفن ہے آج اسے نکال ہی لیتے ہیں پڑا پڑا کم ہو گیا ہوگا۔ اماں نے کوئی جواب نہ دیا۔ میں کدال لے کر ان کے پیچھے دیوانہ وار گھوم رہا تھا۔ آخر انھو ں نے تنگ آکر کہا کہ وہ جگہ ہے جاؤ کھود لو اور میں آناً فاناً کدال سے زمین کھودنے لگا۔

تھوڑی دیر بعد دادی اپنی بیٹھک سے باہر نکلی تو ہائے ہائےمیں مر گئی کہتے ہوئے میرے پاس آئی اور کہنے لگی کہ یہ کیا کر رہے ہو۔میں نے کہا ابا کا چھپا یا ہوا خزانہ نکال رہا ہوں کھلونا لینا ہے ۔ دادی نے کہا،کوئی خزانہ نہیں ہے،تمہاری اماں جھوٹ بولتی ہے،میں نے کہا ،دادی اماں کیسے جھوٹ بولتی ہے وہ تو ہر بات کےجواب کے یہی کہتی ہے کہ تمہارے ابا کا خزانہ یہاں دفن ہے وہاں دفن ہے۔ اب کیسے یہاں خزانہ نہیں ہے۔

دادی نے سمجھایا کہ دراصل یہاں سکھوں کا خزانہ دفن تھا جو وہ تقسیم کے وقت جاتے ہوئے چھپا گئے تھے اور تمہارےپیدا ہونے سے پہلے رات کو چوری چھپے آئے اور ہمیں سوتا دیکھ کر خاموشی سےنکال کر لے گئے۔ تمہاری اماں نے تمہیں پوری بات نہیں بتائی۔ لو ایک اور کہانی سنے ،پھوپھا کے ہاں اکثر آنا جاتا ہوتا تھا۔ پھوپھو کا میں لاڈلا تھا۔ ایک دفعہ سُنا کہ ان کی شادی ہورہی ہے اور کوئی لڑکا آئے گا اور انھیں اپنے ساتھ ہمیشہ کے لیے لے جائے گا۔مجھے پوری طرح یاد نہیں یہ واقعہ لیکن یاداشت میں کلہاڑی والا سین ابھی بھی یاد ہے۔

میں نےدادا سے ایک کہلاڑی بنوا رکھی تھی اور اس سے مسواک اور چھوٹی چھوٹی شاخیں کاٹ کر مکئی کے بھٹے بھوننے کے لیے کھیت سے گھر لایا کرتا تھا۔ اسی کلہاڑی کونکال کر میں نے شام کو سب کے سامنے کہ دیا کہ جو کوئی میری پھوپھو کو مجھ سے چھین کر لے جانے کی کوشش کرے گا میں اس کی ٹانگ کاٹ ڈالوں گا ۔میری اس تنبیہ سے گھر کے سبھی افرا د چونکا ہوگئے اور پھوپھو کی شادی کے ساتھ مجھے بھی ساتھ ہی رخصت کیا گیا کہ اس سلطان راہی کا پتہ نہیں کہ واقعی مولا جٹ بن کر نوری کی ٹانگ نہ کاٹ ڈالے۔

اس طرح کے واقعات میں بچپن گزرا ہے۔ ہماری ہمسائی پھوپھو منور بھی کمال کی خاتون ہیں انھیں کہانیاں سنانے کا بڑا شوق رہتا تھا۔بچپن میں ان کے ہاں رات کو اور گرمیوں کی دوپہر کو محلے کی لڑکیاں اکھٹی ہو جایا کرتی تھیں اور کمال شوق سے جنوں پریوں اور شہزادوں کی کہانیاں سنا کرتی تھیں۔

میں بھی کسی کام کی غرض سے ان کے گھر چلا جاتا تھا اور ان کےبیٹے کے ساتھ جو گھر میں ہوتا کھا پی کر انھیں لڑکیوں میں گھس کر بیٹھ جاتا اور گھنٹوں کہانیاں سنتا۔ کہانیوں کے آغاز اور انجام کے بارے میں علم نہیں تھا لیکن جب کسی شہزادے کا ذکر آتا تو پھوپھو کا اندازِ گفتگو اچانک بدل جاتا اور وہ جوش میں آکر کہنے لگتی کہ نکمی شہزاد ی کو پتہ ہی نہ شہزادہ کی حفاظت کیسے کرنی ہے اور اسے کیسے خوش کرنا ہے۔

لڑکیاں پوچھتی کہ شہزادے کو کیسے خوش کیا جاتا ہے تو وہ ہماری طرف دیکھتی اور کہتی دفعہ ہو جاؤ یہاں سے لڑکیوں میں گھس کر بیٹھ جاتے ہیں چلو بھاگو اور پھر ہمیں گھر سےباہر نکال دیا جاتا۔ اسی طرح کے سینکڑوں کردار ہمارے دیہات میں موجود تھے۔ ایک بابا محمد حسین مرحوم تھے انھیں سوال پوچھنے کا بڑا شوق ہوتا تھا۔ راستے میں جاتے ہوئے کوئی بھی بچہ مل جاتا تو روک کر جغرافیہ،سائنس، اسلام دینیات اور حساب کے سوال پوچھا کرتے تھے۔ میری حساب سے جان جاتی تھی لیکن یہ صاحب کب چھوڑنے والےتھے۔

انھیں گانےکا بڑا شوق تھا، ایک زمانہ میں ان کے پاس وائلن قسم کا باجا تھا جسے کمال شوق سے بجایا کرتے تھے اور جن پریوں اور داستانِ امیر حمزہ اور باغ و بہار زبانی سنا یا کرتے تھے۔ میں نے انھیں پیپل کی گھنی چھاؤ ں میں” قدم راؤ پدم راؤ، قصہ یوسف زلیخا، باغ و بہار،گل بکاولی” کی مثنویاں اور داستانیں سنیں جنھیں ایم اے اُردو کے سلیبس میں پڑھنے کے بعد معلوم ہوا کہ یہ بندہ اردو فارسی اور عربی ادب سے کس قدر آشنا تھا۔

ہمارے دادا کمال قسم کے حاذق انسان تھے۔ کبڈی کے مایہ ناز کھلاڑی تھے ،ان کے ساتھ گاؤں کے سینکڑوں بزرگوں نے کبڈی کھیلی ہوئی تھی۔یہ سب میرے ہوش سنبھالنے سے پہلے کے قصے ہیں۔ ہمارے تایا بتاتے ہیں کہ جس جگہ اب جوہڑ ہے یہاں سرکاری ڈیرہ ہوا کرتا تھا جس میں سن ساٹھ کی دہائی میں جنرل ایوب کا ایک وفد کسی فنکشن میں آیا تھا۔

وہ بتاتے ہیں دیہات میں سن اسی تک شادی کی براتیں آٹھ آٹھ دن رہا کرتی تھیں ۔براتی ساری رات ہیر وارث شاہ سنتے اور اکھاڑہ دیکھتے اور مختلف قسم کے رقص سے لطف اندوز ہوتے اور تماشے دیکھتے اور داستانیں سنتے اور ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑا ڈالتے اورساتھ دودھ جیلبی اور چائے کا دور چلتا رہتا۔سارا دن سوتے رہتے اور سہ پہ پھر انھیں کھیل تماشوں میں وقت گزارا جاتا۔ کیا بھلے دن رہے ہوں ۔

اکیسویں صدی نے ہمیں ایک چیز دی ہے جسے موبائل کہا جاتا ہے اس ستیاناس طوفانی لونڈے نے ہماری تہذیبی رویات کوہمیشہ کے لیے دفن کر دیا ہے۔ اب جسے دیکھو موبائل سے چپکا ہوا ہے۔ یعنی توے سے روٹی چنگیز میں آنے کے درمیانی وقفے میں بچے ایک "رَیل” دیکھ لیتے ہیں۔ غسل خانے میں "ریل ” اور "شارٹس” دیکھتے ہیں۔ سکول آتے جاتے فلموں کے "ٹریلز ” اور "ٹولز” دیکھتے ہیں۔ ٹِک ٹاک نے تو بے غیرتی کی حد ہی ختم کر دی ہے ۔

پاکستانی معاشرے میں کیا دیہات اور کیا شہر ہر جگہ سوشل میڈیا کا غلبہ دکھائی دیتا ہے۔ وہ دادیاں اور نانیاں مر گئیں اور ان سے راتوں کو کہانیاں سننے والے بھی مر گئے ۔اب ماڈرن دادیاں نانیاں ہیں جن کے ہیر اسٹائل اور جوتوں کے میچنگ کے چرچے ملین ویوز میں ہوتے ہیں۔ بچے پیدا ہونے سے پہلے عالمِ ناسوت میں ” ڈورے مون سریز” دیکھ چکے ہوتے ہیں۔گویا ماں کے حاملہ ہونے سے لے کر بچہ کی دُنیا میں آمد تک بچہ بچہ نہیں رہتا اچھا خاصا "پائی” بن چکا ہوتا ہے۔ دو سال کا بچہ دُنیا کا نیوٹن اور آئن سٹائن ہوتا ہے جسے موبائل کو چلانے کی مہارت ِ تامہ ایسی کمال کی ودیعت ہوتی ہے کہ کوئی اور بچہ اس کا مقابلہ کرنے کی جرات نہیں کرسکتا۔

آ ج کی مائیں بھی عجیب ہیں کہتی ہیں، نانی دادی کے پاس نہیں جانا گویا نانی دادی جیسے کوئی چڑیل ہے اور بچہ معصوم فرشتہ جس پر آسیب کا سایہ پڑ جائے گا اور وہ کبھی نارمل نہیں رہے گا۔ خواتین کی باہمی چپلقش گلوبل ولیج کا مسئلہ ہے لیکن اکیسویں صدی کی دُنیا میں پیدا ہونے والا بچہ شیطان کی آنت ہوگا اور اسے مزید شیطان بنانے میں ہماری ماڈرن سو کالڈ پڑھی لکھی او ر جاہل پینڈو ماؤں کا ور انا و تکبر سے معمور باپوں کا کردار ہے جنھوں نے بچوں کو پیدا ہوتے ہی کوک اور موبائل پر لگایا اور فی لیٹر یومیہ کے حساب سے بچہ کوک پیدا ہے اور جیتا ہے یعنی "کوک پینے آں،رِیل وینے آں، ماپیاں تو کی لینا”والا حساب ہے۔

بچے پیدا ہوتے ہی نافرماں، ضدی ،ہٹ دھڑم،متکبر اور فرعونی قسم کے اس لیے ہو رہے ہیں کہ ان کی تربیت کامعیار ہی مایوس کُن ہے۔ ماں کو یہ پتہ ہی نہیں کہ میرا بچہ کیا سیکھ رہا ہے، کیا دیکھ رہا ہے،کیا کھا رہا ہے ،کتنا سو رہا ہے اور کتنا دماغی طور پر حاضر و غیر حاضر ہے۔ کھانا کھانے کے لیے یا کھانا منہ میں ٹھونسنے کے لیے موبائل پر گیم لگا دی جاتی ہے اور پھر پتہ نہیں کیا کھلایا جاتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں یہ زہر ہے جو آپ اپنےبچے کوکھلاتے ہیں ۔

ایک زمانہ تھا جب بچے کو بسم اللہ پڑھ کر کھانا اور پھر کھانے کے آداب سکھانا اور کھانے کے بعد کے آداب و اطوار سکھائے جاتے تھے۔ بچے نے کوئی نیا لفظ باہر سے سیکھ لیا اور گھرمیں دُہر ادیا تو قیامت آجاتی تھی ۔اب بچہ آگے سے منہ چڑائے، گالی بکے اور کہنا نہ مانے تو ماں باپ فخریہ کہتے ہیں کہ "واہ! کیا ایٹی ٹیوڈ ہے” بھیا ! چند دن کی بات ہے ہے یہی ایٹی ٹیوڈ تمہیں گھر سے دھکے دے کر جب نکالے گا تو پتہ لگے گا کہ انسان کو سانپ بنانے میں آپ کا کتنا کردار رہا ہے۔

اس مفصل تمہید کا مدعا یہ ہے کہ” بچپن نگر "کے نام سے کہانیوں کے اس انتخاب کو اپنے بچوں کو پڑھائیے ۔کوشش کیجیے کہ روزانہ سونے سے پہلے انھیں ایک کہانی خود پڑھ کر سنائیے۔ یہ ہزاروں کہانیوں میں سے انتخاب کی گئی چند کہانیاں ہیں جس میں بچے کی ذہنی ساخت ،استعداد،لیاقت اور صلاحیت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ان کا انتخاب کیا گیا ہے۔ یہ کہانیاں اردو ادب کے مایہ ناز انشانگاروں نے لکھی ہیں اور اس مقصد کے لیے لکھی ہیں کہ بچوں میں معاشرتی اقدار کا احیا ہوسکے اور بچوں میں رشتوں کی اہمیت اور بڑے چھوٹے کی تمیز کو کہانی کی صورت میں سیکھنے کاموقع مل سکے۔

آج کے تیز رفتا ر دور میں مجھے یقین ہے کہ کوئی ان کہانیوں کو نہیں پڑھے گا یعنی ایک ہاتھ میں بچپن نگرا ور دوسرے ہاتھ میں موبائل نگر ہو گا تو یقیناً موبائل نگر کی دُنیا بچپن نگر سے بہتر اور پُرکشش ہو گی۔

میں یہ نہیں کہ رہا کہ آپ اس کتاب کو سینے سے لگا کر رکھیئے اور بچوں کو موبائل کے قریب بھی مت آنے دیجیے۔ ویسے یہ حقیقت بھی ہے کہ سات سال سے کم بچے کو موبائل دینا اس کے ہاتھ میں ایٹم بم رکھنے کے متراد ف ہے۔ بہتر ہے اسے بچپن نگر دیجئے ،اس کتاب میں آ پ کےبچپن کی یادیں اور باتیں اور احساسات بھی موجود ہیں جو آپ کو ہونٹ کریں اور بچپن میں پھر سے لوٹنے پر اُکسائیں گے۔

ایک تخلیق کار مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنا راگ الاپتا رہے اور اپنی دُھن میں مست رہنے کی بجائے شعور کی شمع کو لفظوں میں مجسم کر کے اندھیرے کے سامنے رکھ دے۔ یہ اُس جگنو پر منحصر ہے کہ اُس نے اپنی لَو میں آگے بڑھنا ہے یا مستعار روشنی سے بھی فائدہ اُٹھانا ہے۔

” بچپن نگر” ایک دلچسپ کتاب ہے اسے خود بھی پڑھیے اور اپنے بچوں کو سلیبس کے طور پر لازمی سمجھ کر پڑھائیے۔ مجھے یقین ہے آپ کی یہ کوشش رائیگاں نہیں جائے گی۔

محسن خالد محسنؔ

محسن خالد محسن

محمد محسن خالد (محسن خالد محسن) ؔ شاعر ،ادیب،محقق ،نقاد اور اُستاد ہیں۔ ان کے تین شعری مجموعے "کچھ کہنا ہے"،دُھند میں لپٹی شام اور"ت لاش" شائع ہو چکے ہیں۔ا نھوں نے کلاسیکی غزل میں "کلاسیکی غزل میں تلمیحات کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ" کے موضوع پرناردرن یونی ورسٹی نوشہرہ سے پی ایچ ۔ڈی(اُردو) 2024 میں کی ہے۔بہ حیثیت لیکچرار(اُردو) گورنمنٹ شاہ حسین گریجوایٹ کالج چوہنگ میں شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں۔ ان کے پنتیس سے زائد تحقیقی مقالات ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کے مصدقہ جنرلز میں شائع ہو چکے ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستان کے معروف ادبی رسائل وجرائد اوربرقی اخبارات و بلاگز میں ان کے متفرق موضوعات پر مضامین اور کالمز باقاعدگی سے شائع ہو تے رہتے ہیں۔ ادب،سماج، معاشرت،سیاست و حالاتِ پر ببانگِ دُہل اپنی رائے کا اظہارکرتے ہیں۔