رباعی میں دارا شکوہ (1659-1615) کو مغلِ اعظم شہزادہ دارا شکوہ کہتا ہے۔
وہ اورنگ زیب جسے ہمارے اکثر لوگ درویش بادشاہ کہتے ہیں، دراصل مغلیہ سلطنت کا ضیاءالحق تھا۔ وہ خونی اور درندہ صفت شخص جس نے دانش ور شہزادہ مارا۔ اس نے صرف بھائی کا سر نہیں کاٹا بلکہ اس ناعاقبت اندیش نے اس عہد کی دانش کا سر قلم کیا۔ ایک برادرِ دارا تمام برادرانِ یوسف پر بھاری ہے۔
اگر دارا شکوہ بادشاہ بنتا تو وہ بےمثال حکمران ہوتا، فلاسفر کِنگ، جس کا خواب افلاطون نے دیکھا اور اپنی مشہور کتاب "رپبلک” کا موضوع بنایا۔
دارا شکوہ وہ سجیلا جوان تھا جس پر شہزادے کا لفظ زیبا تھا۔ وہ فنونِ لطیفہ کا پروردہ، علم و ادب کا دلدادہ اور شعر وسخن کا سرپرست تھا۔ وہ شاندار شاعر اور صوفی منش انسان تھا۔ اس کی تصنیف "مجمع البحرین” اسلامی تصوف کو ہندو اور جین نروانی دھیان کے ساتھ دو سمندروں کی طرح دکھاتی ہے۔ اس کا صوفی نامہ برصغیر میں تصوف کی کتابوں میں درخشاں تحریر ہے۔ عمر خیام کی رباعیوں کے ساتھ دارا شکوہ کی رباعیاں پڑھیں تو مضمون آفرینی کے ترفع کے ساتھ عروض کی کوئی لغزش نظر نہیں آتی وہ لغزش جس سے بڑے بڑے اساتذہ مستثنیٰ نہیں ہیں۔ اردو ادب پر مغلیہ دور کے سب سے زیادہ اثرات لاشعوری طور پر دارا شکوہ نے مرتب کئے ہیں۔ مگر اس حقیقت کو مورخین مانتے ہیں نہ نقاد۔ ہم بس تزکِ بابری، تزکِ جہانگیری، اکبر کے نو رتن اور بہادر شاہ ظفر کے دیوان کا تذکرہ کرتے ہیں۔ کبھی کبھی زیبِ داستاں کے لئے ظہیرالدین بابر یا کچھ مغلیہ شہزادوں اور شہزادیوں کے اشعار سنا دیتے ہیں۔ دارا شکوہ کی بات رسمی طور پر کبھی کبھی کرتے ہیں اور دانستہ ایسا کرتے ہیں۔ ہم تاریخ سے رُو گردانی کرتے ہیں۔ چشم پوشی کرتے ہیں۔ ہمیں آنے والی نسلوں کو درست تاریخ پڑھانی چاہئیے۔
میں نے دارا شکوہ کی ایک فارسی رباعی کا اردو رباعی میں ترجمہ کر کے اپنے محبوب شہزادے کو نذرانہء محبت پیش کیا ہے۔
ملاحظہ فرمائیے
خواہی کہ شوی داخلِ اربابِ نظر
از قال بحال بایدت کرد گزر
از گفتنِ توحید موحد نہ شوی
شیریں نشود دہانت، از نامِ شکر
(دارا شکوہ)
خواہش ہے کہ شامل ہو بہ اربابِ نظر؟
کر قال سے پھر حال کی منزل کو سفر
توحید بیاں کوئی موحد نہیں ہے
شیریں نہ ہوا ذائقہ کہنے سے شکر
وحید احمد
یکم اگست 2026