یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

از قلم راجہ عتیق خان

کامیابی جب کسی بڑے گلیمر‘اشتہارات کی چمک اور سرکاری بیساکھیوں کے بغیر چل کر آتی ہے‘تو وہ اپنی سچائی کا لوہا منوا کر ہی دم لیتی ہے۔ جب کوئی سرمایہ دار‘کسی بڑے سیاسی گھرانے کا چشم و چراغ‘یا ریاست کے دستِ شفقت تلے پروان چڑھنے والا شخص کوئی کامیابی حاصل کرتا ہے‘ تو دُنیا تالیاں بجاتی ہے‘ اخبارات سرخیاں لگاتے ہیں اور اسے ایک فطری امر سمجھ کر قبول کر لیا جاتا ہے۔ لیکن جب آزاد جموں و کشمیر کے ایک پسماندہ علاقے سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان‘تمام تر معاشی عسرتوں‘ خاندانی اثر و رسوخ کی عدم موجودگی اور ریاستی سرپرستی کے بنا‘ اپنی قلمی بصیرت کے بل بوتے پر دُنیا کو اپنی طرف متوجہ کر لے —تو قلم سجدے میں گر جاتا ہے اور روح عقیدت و مسرت سے جھوم اٹھتی ہے۔
سوچیے! ایک ایسا مسافر جس کے پاس نہ تو کسی وڈیرے کا فون‘ نہ کسی بڑی اکیڈمی کا فنڈ‘ اور نہ ہی کسی سرکاری محکمے کی پشت پناہی‘ اس کے پاس اگر کچھ تھا‘ تو بس ایک ٹوٹا ہوا دِل‘معاشرے کے کچلے ہوئے قلاش طبقے کا درد‘ اور ایک ایسا قلم جو سچ بولنا جانتا ہے‘ جس نے اپنی پسماندگی کو اپنی کمزوری نہیں؛بلکہ اپنی سب سے بڑی طاقت بنایا۔
یہ کہانی ہے علمی و ادبی مصنف عابد ضمیر ہاشمی کی‘جنہوں نے اپنے خونِ دِل سے ایک شاہکار تخلیق کیا‘ جسے دُنیا”مقصد ِ حیات“کے نام سے جانتی ہے۔ اور آج یہ شاہکار اس مقام پر پہنچ چکا ہے کہ بغیر کسی سفارش اور سرپرستی کے‘ اس پر یونیورسٹی لیول پر باقاعدہ تحقیقی مقالہ برائے بی – ایس(اُردُو) کا تحقیقی تھیسس (Thesis) لکھا جا چکا ہے۔ جب تعلیمی اداروں کے بڑے بڑے نقاد اور اساتذہ کسی کتاب کو اپنے تھیسس کے لیے منتخب کرتے ہیں‘ تو وہ کسی سفارشی خط کو نہیں دیکھتے‘وہ تحریر کے اندر چھپے اس معلمانہ ضبط‘فلسفہ اخلاق اور سچائی کو دیکھتے ہیں جو قاری کو سوچنے پر مجبور کر دے۔ اس اکیلی اور بے یار و مددگار علمی اڑان کو اس وقت سب سے بڑی سند ملی جب خیبر پختونخوا کے سب سے معتبر اور تاریخی تعلیمی ادارے یونیورسٹی آف پشاور کے شعبہ اُردُونے اس کتاب کو اکیڈمک ریسرچ کا حصہ بنایا۔ یہ اس نظام کے لیے ایک پیغام ہے جو صرف اشرافیہ کو نوازنا جانتا ہے۔ ان کا یہ سفر ثابت کرتا ہے کہ جب کوئی مددگار نہ ہو، تو کائنات کا سب سے بڑا مددگار (اللہ) خود رہنمائی فرماتا ہے۔
قلم کا سچ کبھی نہیں مرتا: بغیر کسی پی آر (PR) اور اشتہارات کے‘ایک سچی کتاب اپنے لیے یونیورسٹیوں کے بند دروازے خود کھلوا لیتی ہے۔ یونیورسٹی میں جذبات سے نہیں دلائل سے بات کی جاتی ہے۔ یونیورسٹی میں کتاب پر تھیسس کا ہونا اس کتاب کے لئے ایک سند ہے۔ ایک لکھنے والے کے لئے وقتی شہرت سے کئی گنا زیادہ یہ اہم ہے کہ اس کی کتاب پر تعلیم کی سب سے بڑی درسگاہ ریسرچ کرے۔یہ بقا ء ہے آپ کے خونِ جگر کی۔ ان کی 603 صفحات پر مشتمل کتاب ”مقصد ِحیات“محض چند کالموں کا مجموعہ نہیں ہے‘بلکہ یہ اس معاشرتی گھٹن اور سسکتی زندگیوں کا نوحہ اور رہنمائی ہے جو اُنہوں نے وادیِ کشمیر کی گلیوں سے لے کر ملک کے طول و عرض تک محسوس کیں۔گمنامی سے امر ہونے کا سفر: دھیرکوٹ اور باغ جیسے علاقوں سے اٹھنے والی آواز جب اعلیٰ تعلیمی اداروں کا نصاب اور تحقیق کا موضوع بنتی ہے‘ تو وہ آنے والی نسلوں کے لیے امید کا روشن چراغ بن جاتی ہے۔
سوچیے‘وہ پشاور یونیورسٹی جس کی اپنی علمی اور تحقیقی روایات عشروں پر محیط ہیں‘ وہاں کا ایک ہونہار محقق سلیمان خان جب کسی عصری کتب پر تھیسس لکھنے کا ارادہ کرتا ہے‘تو وہ اشرافیہ کی فرمائشی کتابوں کو رد کر دیتا ہے۔ سلیمان خان نے کسی بڑے نام یا چمکتے ہوئے اشتہاری چہرے کے بجائے عابد ضمیر ہاشمی کی فکر اور ان کی کتاب ”مقصد ِ حیات“ کا انتخاب کیا۔ یہ انتخاب محض ایک اتفاق نہیں؛ بلکہ ایک سچے محقق کی اس پارکھ نظر کا ثبوت ہے جو گمنامی کے اندھیروں میں چھپے موتیوں کو پہچان لیتی ہے۔
ایک جذباتی سلام!آج جب ہم عابد ضمیر ہاشمی اور ان کی تصنیف ”مقصد ِ حیات“ پر ہونے والے اس تحقیقی کام کو دیکھتے ہیں‘ تو دل فخر سے لبریز ہو جاتا ہے۔ یہ کامیابی صرف ان کی ذات کی نہیں‘ بلکہ ہر اس غریب اور تنہا طالبِ علم کی ہے جو اپنی آنکھوں میں بڑے خواب سجا کر نامساعد حالات سے لڑ رہا ہے۔
ہاشمی صاحب! آپ نے ثابت کر دیا کہ اڑان کے لیے پروں کی نہیں‘ بلکہ نیت اور عزم کی ضرورت ہوتی ہے۔ آپ نے اس سسکتے معاشرے کو جینے کا سچا مقصد دیا ہے۔ آپ کی یہ جیت ہر اس انسان کے لیے ایک لازوال مشعلِ راہ ہے جو تنہا کھڑا ہے مگر جھکنے کو تیار نہیں۔ قلم قبیلے کا یہ سرفراز مسافر تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ زندہ رہے گا۔
آج جب محقق سلیمان خان کا یہ تھیسس یونیورسٹی کے ریکارڈ کا حصہ بن چکا ہے‘تو عابد ضمیر ہاشمی کا قلم سرخرو ہو چکا ہے۔ یہ جیت صرف ایک مصنف کی نہیں ہے‘ بلکہ یہ جیت ہر اس خواب کی ہے جو تنہائی میں دیکھا گیا‘ہر اس رات کی ہے جو بغیر وسائل کے جاگ کر گزاری گئی‘ اور ہر اس انسان کی ہے جو خاموشی سے سچ کے چراغ جلا رہا ہے۔ کشمیر کی پرپیچ گلیوں سے اٹھنے والی ایک خاموش آواز کا پشاور کے در و دیوار تک گونجنا‘ اور اکیڈمک دُنیا کے سب سے بڑے اعزاز (تھیسس) کے لیے منتخب ہونا ایک سچی مسرت اور دل کو رلا دینے والا جذباتی لمحہ ہے۔پشاور یونیورسٹی کی غیر جانبدار علمی روایت: اس جامعہ نے ثابت کیا کہ یہاں تحقیق سفارش پر نہیں‘ بلکہ خالص علمی و فکری معیار پر ہوتی ہے۔

عابد ہاشمی صاحب اور محقق سلیمان خان! آپ دونوں نے مل کر اس مایوس معاشرے کو یہ یقین دلایا ہے کہ محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ جب تک دُنیا میں سچے لکھنے والے اور سلیمان خان جیسے بے لوث پرکھنے والے موجود ہیں‘ علم اور عزم کا یہ کارواں کبھی نہیں رک سکتا۔ ”ہمتِ مرداں، مددِ خدا!“

راجہ عتیق خان