شوقِ عبادت

ایک اردو تحریر از محمد یوسف برکاتی

میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں کو میرا آداب

میرے واجب الاحترام پڑھنے والو

سستی کو ترک کرکے شوق اور چستی کے ساتھ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت کرنا شوقِ عبادت ہے یہ اللہ تعالیٰ کی محبت اور قربت حاصل کرنے کا وہ دلی جذبہ ہے جو انسان کو بندگی کی لذت سے روشناس کرواتا ہے۔ یہ انسان کو سستی سے نکال کر خوش دلی سے احکاماتِ الٰہی پر عمل کرنے پر آمادہ کرتاہے اسی کو عبادت کا شوق کہتے ہیں اب دیکھیں ایک عام سا اصول ہے کہ دنیا میں کوئی چیز بنائی جاتی ہے یا ایجاد کی جاتی ہے تو وہ بیکار یا فضول نہیں ہوتی بلکہ اس کا کوئی نہ کوئی مقصد ضرور ہوتا ہے اب وہ اس کے استعمال کرنے والے پر منحصر ہے کہ وہ اسے اپنے فائدے کے لیئے استعمال کرتا ہے یا نقصان کے لیئے تو اب سوچیئے کہ جس خالق و مالک نے اتنی بڑی کائنات اور اسے چلانے کے لیئے اتنا وسیع نظام بنایا پھر بیشمار مخلوقات پیدا کیں اور اپنی سب سے بڑی مخلوق اپنا نائب انسان بنایا جسے اس نے اشرف المخلوقات کا درجہ دیا تو یہ سب کچھ بے معنی تو نہیں یقیناً انسان کو بناکر اسے دنیا میں بھیج کر زندگی دینے کا کوئی نہ کوئی مقصد تو ہوگا تو اس کا جواب ہم سب سے پہلے اس رب العزت کی کتاب یعنی قرآن مجید فرقان حمید سے لیتے ہیں قرآن مجید کی سورہ الذاریات میں ارشاد باری تعالیٰ ہوا کہ
وَمَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَالۡاِنۡسَ اِلَّا لِيَعۡبُدُوۡنِ (الذاریات 56)
ترجمعہ کنزالایمان ۔۔
اور میں نے جن اور آدمی اس لیئے بنائے کہ وہ میری بندگی کریں ۔
اسی طرح قرآن مجید کی سورہ العمران میں ارشاد ہوا کہ
وَ سَارِعُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُۙ-اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیْنَۙ (133)
ترجمعہ کنزالایمان ۔۔
اور دوڑو اپنے رب کی بخشش اور ایسی جنت کی طرف جس کی چوڑان میں سب آسمان و زمین آ جائیں پرہیزگاروں کے لئے تیار رکھی ہے۔
اسی طرح قرآن مجید کی سورہ المائدہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ
وَ لِكُلٍّ وِّجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّیْهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِﳳ-اَیْنَ مَا تَكُوْنُوْا یَاْتِ بِكُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ(148)
ترجمعہ کنزالایمان ۔۔
اور ہر ایک کے لئے توجہ کی ایک سمت ہے کہ وہ اسی طرف منہ کرتا ہے تو یہ چاہو کہ نیکیوں میں اوروں سے آگے نکل جائیں تم کہیں ہو اللہ تم سب کو اکٹھا لے آئے گا بیشک اللہ جو چاہے کرے۔
ان تمام آیات میں ایک ہی بات واضح نظر آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس دنیا میں اپنی عبادت اپنی بندگی کے لیئے بھیجا ہے اور یہ ہی تلقین نظر آتی ہے کہ نیکیوں میں ایک دوسرے سے سبقت لیجانے کی کوشش کرو تاکہ وہ جنت تمہیں عطا کی جو صرف پرہیز گاروں کے لیئے تیار رکھی ہوئی ہے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں سب سے پہلے ہم شوق عبادت کا ذکر سرکار مدینہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے شروع کرتے ہیں آپ ﷺ کے شوق عبادت کے بارے میں ایک حدیث یہاں تحریر کرنے کی سعادت حاصل کروں گا جو بخاری شریف میں موجود ہے کہ ” ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے مسعر نے بیان کیا، ان سے زیاد بن علاقہ نے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اتنی دیر تک کھڑے ہو کر نماز پڑھتے رہتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم یا (یہ کہا کہ) پنڈلیوں پر ورم آ جاتا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق کچھ عرض کیا جاتا تو فرماتے "کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں” ( صحیح البخاری 1130)
اسی طرح یہاں میں ایک اور حدیث رکھتا ہوں جو مسلم شریف میں موجود ہے جس میں ” حضرت حذیفہ نے بیان کیا کہ ایک رات میں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی،آپ نے سورہ بقرہ کا آغاز فرمایا،میں نے(دل میں ) کہا:آپ سو آیات پڑھ کر رکوع فرمائیں گے مگر آپ آگے بڑھ گئے میں نے کہا:آپ اسے(پوری) رکعت میں پڑھیں گے،آپ آگے پڑھتے گئے،میں نے سوچا،اسے پڑھ کر رکوع کریں گے مگر آپ نے سورہ نساءشروع کردی،آپ نے وہ پوری پڑھی،پھر آپ نے آل عمران شروع کردی،اس کو پورا پڑھا،آپ ٹھہر ٹھہر کر قرأت فرماتے رہے جب ایسی آیت سے گزرتے جس میں تسبیح ہے تو سبحان الله کہتے اور جب سوال (کرنے والی آیت ) سے گزرتے(پڑھتے) تو سوا ل کرتے اور جب پناہ مانگنے والی آیت سے گزرتے تو۔( اللہ سے) پناہ مانگتے،پھر آپ نے ر کوع فرمایا اور سبحان ربی العظیم کہنے لگے،آپ کا رکوع(تقریباً) آپ کے قیام جتنا تھا۔پھر آپ نے "سمع الله لمن حمدہ”کہا:پھر آپ لمبی دیر کھڑے رہے،تقریباً اتنی دیر جتنی دیر رکوع کیا تھا ،پھر سجدہ کیا اور "سبحان ربی الاعلی” کہنے لگے اور آپ کا سجدہ (بھی) آپ کے قیام کے قریب تھا۔ صحیح مسلم 1814.
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں ان مذکورہ احادیث میں بھی یہ ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے حبیب کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی عبادت کا شوق کس حد تک رکھتے تھے یعنی وہ ہستی جو وجہہ تخلیق کائنات ہیں جو جنت کی بشارتیں دینے والے ہیں لوگوں کو ان کی زندگی میں ہی جنت کا وعدہ فرمانے والے ہیں جنہیں لمبی لمبی اور طویل عبادتوں کی ضرورت نہیں تھی لیکن رہتی قیامت تک آنے والے امتیوں کو سبق سکھانا مقصود تھا کہ عبادت کا شوق ہی اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کا سبب ہے اور اسی سبب جنت میں جانے کا راستہ ملتا ہے یہ اعمال سرکار مدینہ حضور ﷺ کے بعد صحابہ کرام علیہم الرضوان بزرگان دین اولیاء کرام اور ان تمام اہل ایمان مسلمانوں میں ہمیں ملتے ہیں جو اسی نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنی زندگی گزار گئے اور گزار رہے ہیں ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں شوق عبادت ایک بڑا طویل موضوع ہے کیونکہ اگر میں صرف حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شوق عبادت پر ہی لکھنا شروع کروں تو لکھتا رہوں گا لیکن آرٹیکل مکمل نہیں ہوگا اس لیئے میں چاہتا ہوں کہ مختصر اور جامع انداز میں سرکار مدینہ حضور ﷺ کے ساتھ ان کے صحابہ کرام علیہم الرضوان اور بزرگان دین کا بھی شوق عبادت ذکر کروں تاکہ ہمیں معلوم ہو کہ عبادت کا شوق اور اس میں دلچسپی کا رجحان ہمارے اسلاف میں کس قدر تھا حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفہ سوئم یعنی تیسرے خلیفہ کا یہاں جب ہم شوق عبادت دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ عشاء کی نماز کے بعد مصلحہ پر کھڑے ہوئے دو رکعتوں کی نیت کرتے پہلی رکعت میں پندرہ سپارے پڑھ جاتے تو دوسری رکعت میں پندرہ سپارے پڑھ لیتے یہ اپنے بعد آنے والے لوگوں کی توجہ عبادت کی طرف دلانے کی ایک اعلی مثال ہے اسی طرح جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وصال ہوا تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کی ایک بیوہ سے نکاح کرلیا تو اس خاتون نے کہا کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھ سے نکاح تو کرلیا ہے لیکن میں تو اب بڑھاپے کی طرف ہوں یعنی بوڑھی ہوچکی ہوں تو میں اب کوئی خدمت نہیں کرسکتی تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں نے تمہارے ساتھ کسی ضرورت کے تحت یا نکاح نہیں کیا کیونکہ میں نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مسجد میں بھی دیکھا حرم کعبہ میں بھی دیکھا میدان جہاد میں بھی دیکھا ہے لیکن میں نے صرف تم سے یہ پوچھنے کے لیئے نکاح کیا ہے کہ مجھے بتائو حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ گھر کی چار دیواری میں بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کو کیسے راضی کیا کرتے تھے ان کا مصلحے پر بیٹھنے کا انداز کیا تھا ان کا قرآن مجید کی تلاوت کرنے کا طریقہ کیا تھا میں وہ سب کچھ سیکھنا چاہتا ہوں یہ ہے عبادت کے شوق کو عملی جامہ پہنانے کی خاطر اتنا کچھ سیکھنے کی خاطر ایک بوڑھی عورت سے نکاح کرنا یہ شوق عبادت نہیں تو اور کیا ہے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں کیا آج کے اس معاشرے میں اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کے حصول کی خاطر اتنا بڑا قدم کوئی اٹھا سکتا ہے آج ہمارے پاس علم دین حاصل کرنے کی ہر سہولت ہر جدید ترین سسٹم موجود ہے لیکن دنیا کی رنگینیوں اور لذتوں نے ہمیں دین سے اتنا دور کردیا ہے کہ شوق عبادت ہمارے اندر نظر ہی نہیں آتا کیونکہ ہمارے اندر خوف خدا مر چکا ہے جس کے اندر خوف خدا موجود ہو اس کے دل میں سوائے شوق عبادت کے اور کچھ نہیں آ سکتا اور جب خوف خدا پیدا ہو جائے تو دنیا کی ہر شہ اس سے ڈرنے لگتی ہے اور اسے خوف خدا کے سبب کسی سے کبھی بھی ڈر نہیں لگتا یہ شوق عبادت کا ایک بہترین انعام ہے رب العزت کی طرف سے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں حضرت صلہ بن اشیم رحمۃ اللّٰہ علیہ تابعین بزرگان دین میں سے ایک بہت بڑے عابد اور مجاہد تھے وہ اکثر رات کو گھر سے دور جنگل میں جاکر نماز پڑھا کرتے تھے ایک رات وہ گھنے جنگل میں کچھ درختوں کے بیچ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بڑے خشوع و خضوع کے ساتھ نماز پڑھنے میں مصروف تھے کہ اچانک جھاڑیوں کے درمیاں سے ایک بہت بڑا اور خونخوار شیر آکر کھڑا ہوگیا اس نے جب آپ علیہ الرحمہ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو کھڑا ہوکر گھورنے لگا لیکن آپ علیہ الرحمہ بڑے سکوں اور اطمینان کے ساتھ نماز میں مصروف رہے جب نماز سے فارغ ہوئے تو گرجدار آواز میں شیر سے مخاطب ہوئے اور بڑے سنجیدہ لہجے میں فرمایا کہ اے پھاڑنے والے جانور جا اپنا رزق کہیں اور تلاش کر میرے اور میرے رب کے بیچ میں آنے کی تجھے کوئی ضرورت نہیں میری عبادت میں مخل ہونے کی کوشش بھی نہیں کرنا آپ علیہ الرحمہ کی اس خوف خدا والی آواز سن کر وہ خونخوار شیر خاموش ہوگیا اپنا سر جھکا کر وہاں سے واپس پلٹ گیا اور جنگل کی طرف چلا گیا یہاں یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو اللہ کے خوف خدا کی وجہ سے شوق عبادت میں مصروف ہو جاتا ہے تو پھر دنیا کی ہر مخلوق اس سے ڈرتی ہے وہ کسی سے نہیں ڈرتا ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں ہمارے اسلاف (صحابہ، تابعین، اور تبع تابعین) کا ذوق عبادت عشق، خشوع، اور استقامت کا انوکھا امتزاج تھا۔ ان کے لیے عبادت بوجھ نہیں بلکہ روحانی تسکین اور محبوبِ حقیقی سے قربت کا سب سے بڑا ذریعہ تھی، جس میں انہیں دنیا کی ہر نعمت سے زیادہ لذت محسوس ہوتی تھی۔شوق عبادت کا یہ حال ہوتا تھا کہ طویل طویل نمازیں پڑھنا سجدے کرنا ان کا خاصہ تھا نماز میں خشوع وخضوع کا یہ عالم ہوتا تھا کہ دوران نماز اردگرد کیا ہورہا ہے انہیں خبر تک نہیں ہوتی قرآن مجید سے اتنا گہرا دلی لگائو تھا کہ بعض تابعین ایک دن میں پورا پورا قرآن ختم کر دیا کرتے تھے حضرت عثمان غنی اور حضرت تمیم داری رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے ایک ہی رکعت ( وتر) میں پورا قرآن ختم کردینے کے واقعات ملتے ہیں جبکہ رمضان المبارک میں ان کا یہ شوق دیدنی ہو جاتا تہجد میں مصلحے پر بیٹھنا اور بیٹھ کر رب کی بارگاہ میں آنسو بہانا ان کا محبوب مشغلہ تھا دنیا کو سلاکر خود اپنے رب کی بارگاہ میں ساری ساری رات کھڑے ہوکر گزاردیتے یہ ہی نہیں اتنا سب کچھ کرنے کے بعد بھی اپنے آپ کو گناہگار اور خطاکار سمجھ کر سجدوں میں گڑگڑا کر استغفار کرنا اور اپنی بخشش کی دعا کرنا ان کا معمول تھا ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے پائوں پر دشمنوں نے جب تیر مارا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ شدت درد سے تڑپ اٹھے ساتھیوں نے تیر نکالنے کی بہت کوشش کی لیکن جیسے ہی وہ تیر کو ہاتھ لگاتے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی چیخ نکل جاتی لہذہ طے ہوا کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم جب نماز کی حالت میں ہوں تو تیر نکال دیا جائے اور ویسا ہی ہوا کہ جب حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نماز کی نیت باندھ کر کھڑے ہوئے تو تیر نکال دیا گیا جبکہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خبر تک نہیں ہوئی کیونکہ وہ اس وقت اپنے رب تعالیٰ سے گفتگو میں مصروف عمل تھے شوق عبادت میں اتنے محو کہ درد کا احساس تک نہیں ہوا یہ شوق عبادت کی ایک اعلی مثال ہے اور ویسے بھی اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے اور اسے راضی کرنے کا بہترین راستہ اس سے ہم کلامی ہے اور ہم کلامی کرنے کا بہترین ذریعہ اس کی عبادت ہے اب اگر ہمیں اس رب العزت کو راضی کرنا ہے اس کے ساتھ ہم کلامی کرنی ہے تو انہی راستوں کو چننا ہوگا جو ہمارے اسلاف نے چنے ہمارے آقا و مولا حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم ان کے خلفاء تابعی بزرگان دین اولیاء کرام اور اللہ تعالیٰ کے خاص بندے جن راستوں پر چلے ان راستوں پرچلنا ہوگا یعنی صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس عبادت میں خشوع وخضوع قائم کرنا اب وہ چاہے نماز ہو تلاوت قرآن مجید ہو یا دنیاوی معاملات میں ہونے والا کوئی بھی نیک عمل ہو ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں آخر میں یہاں میں اپنے پیرو مرشد حافظ و قاری خانوادۂ برکاتیہ، مارہرہ شریف (بھارت) کے عظیم روحانی پیشوا اور صوفی بزرگ حضرت علامہ سید شاہ مصطفیٰ حیدر حسن میاں قادری برکاتی رحمۃ اللہ علیہ کا ایک شوق عبادت کے سلسلہ واقعہ تحریر کرنے کی سعادت حاصل کروں گا کہ ایک دفعہ آپ علیہ الرحمہ سفر میں تھے رمضان المبارک کا مہینہ تھا آخری عشرے کے آخری دن چل رہے تھے جب رات کا وقت ہوا تو ایک مسجد دیکھ کر اس کا رخ کیا جب وہاں پہنچے تو دیکھا کہ شبینہ کی تیاری ہورہی ہے وہاں کے لوگوں نے دیکھا کہ مسافر ہیں تو عزت بخشی اور جب شبینہ کی شروعات ہونے لگی تو آپ علیہ الرحمہ کے ساتھیوں نے مسجد انتظامیہ سے درخواست کی کہ حضور قبلہ کو اجازت دی جائے وہ پڑھنے کی خواہش رکھتے ہیں تو انتظامیہ نے بخوشی اجازت دی اور حضور علیہ الرحمہ نے نیت کرکے تلاوت شروع کردی حضور احسن العلماء علیہ الرحمہ نے پہلی رکعت میں پندرہ سپارے اور دوسری رکعت میں سورہ الناس تک پڑھ کر سلام پھیرہ جبکہ بعض روایت میں ہے کہ آپ علیہ الرحمہ نے تین پائو تک پڑھا اور مسکراتے ہوئے کھڑے ہوتے ہوئے فرمایا کہ باقی جس نے پڑھنا ہو پڑھ لے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں یہ ہے عبادت کا شوق اور عبادت کا ذوق جو ہمیں ہمارے اسلاف میں دکھائی دیتا ہے جبکہ انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ فی زمانہ قرآن مجید گھروں کی الماریوں میں خوبصورت جلدان میں لپیٹ کر رکھ دیا جاتا ہے اور گھر کے کسی بھی فرد کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ اسے کھول کر پڑھ لے اور نہ ہی اذان کی آواز سن کر ہم مسجد کا رخ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں بلکہ اپنے دنیاوی کاموں میں اتنے محو ہوتے ہیں کہ ہمیں نماز کی فکر تک نہیں ہوتی کیونکہ ہمارے اندر شوق عبادت نہیں ہے اور شوق عبادت جیسی عادت کے عیوض ملنے والے انعام و اکرام کا اندازہ تک نہیں ہے قرآن اور حدیث میں واضح طور پر بتایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنا نائب بناکر اپنی عبادت کے لیئے دنیا میں بھیجا اور زندگی جیسی نعمت عطا فرمائی لیکن ہم شیطان کی باتوں میں آکر دنیا کی رنگینیوں اور اس کی لذتوں میں محو ہوگئے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں میں نے پہلے بھی کہا کہ یہ موضوع ایک طویل موضوع ہے بیشک میں نے اس عنوان کے تحت مختصر مگر جامع انداز میں وہ کچھ بتانے اور سمجھانے کی کوشش کی ہے جو میں چاہتا تھا لیکن اسی موضوع پر ایک اور تحریر لیکر بہت جلد آپ معزز پڑھنے اور میرا حوصلہ بڑھانے والوں کی خدمت میں حاضر ہو جائوں گا انشاء اللہ آخر میں دعا ہے کہ رب العزت مجھے سچ لکھنے ہمیں پڑھنے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ مجھے دعاؤں میں خاص طور پر یاد رکھیئے گا ۔

محمد یوسف میاں برکاتی