تاریخ کشی

​تحریر : پیر انتظار حسین مصور

علامہ اقبال، فتنہ قادیانیت اور ڈیجیٹل دور کی تاریخ کشی

ایک دور تھا جب برصغیر پاک و ہند پر قابض برطانوی استعمار نے اپنے وفاداروں، پالیسی سازوں کی جی حضوری کرنے والوں اور آلہ کاروں کو نوازنے کے لیے مراعات، عہدوں اور جاگیروں کا وہ سستا بازار گرم کیا تھا جس کی مثال تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ جن جن خاندانوں کے آبا و اجداد نے امت کے اجتماعی مفادات کے سودے کیے اور انگریز کا تھوڑا سا بھی سنہرا تھپکنا پایا، انہیں بدلے میں گاؤں کی نمبرداریاں، پٹواری پن، سرپنچی، خان بہادر کے خطابات اور ساہوکاروں کی وسیع و عریض جاگیریں عطا کر کے خطے کے سادہ لوح لوگوں پر مسلط کر دیا گیا۔ اس تمام تر ظاہری چمک دمک کے پیچھے ایک گہری اور سیاہ سازش یہ کارفرما تھی کہ اصل مجاہدانِ آزادی، سچے فکری رہنماؤں اور تاریخ ساز علمی کرداروں کے روشن شجرے، نظریاتی کارنامے اور لازوال خدمات سوچی سمجھی سکیم کے تحت پسِ پشت ڈال دیے جائیں تاکہ قوم اپنے حقیقی محسنوں کو بھول کر غلط تاریخ کو سچ تسلیم کر لے۔

افسوسناک اور لمحہ فکریہ امر یہ ہے کہ آج اکیسویں صدی کے اس ترقی یافتہ اور نام نہاد ڈیجیٹل دور میں وہی انگریزی ذہنیت ایک نئے، جدید اور انتہائی مکارانہ روپ میں دوبارہ بیدار ہو چکی ہے۔ آج کے چند نااہل یوٹیوبرز، وائرل مواد اور ویوز کے بھوکے ویلاگرز اور کچھ سنسنی خیز فیس بک پیجز بالکل اسی استعماری عمل اور تاریخ مسخ کرنے کی ڈگر پر گامزن دکھائی دیتے ہیں۔ محض چند ڈالرز، چند کلکس اور ارزاں ترین سستی شہرت کی خاطر روزانہ کی بنیاد پر تاریخ کا حشر بنانا ان لوگوں کا معمول بن چکا ہے۔ یہ عناصر تاریخی واقعات کو سیاق و سباق سے کاٹ کر، سچائیوں کو مسخ کر کے اور فرضی افواہوں کو حقیقت کا رنگ دے کر یوں پیش کرتے ہیں کہ عام قاری اور بینندہ دنگ رہ جائے۔

آج کل انہی سستے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایک نہایت گستاخانہ، لغو اور سراسر جھوٹ پر مبنی پروپیگنڈا مفکرِ اسلام علامہ محمد اقبال رحمہ اللہ اور ان کی نسلوں کے بارے میں دانستہ طور پر پھیلایا جا رہا ہے۔ بے بنیاد دعویٰ یہ تراشا جا رہا ہے کہ علامہ اقبال کا ایک بیٹا اور ان کا پورا خاندان نعوذ باللہ قادیانیت کی دلدل میں جا گرا تھا۔ یہ دعویٰ نہ صرف تاریخ کے ساتھ ایک بدترین بدنیتی پر مبنی کھلواڑ ہے بلکہ ایک نظریاتی اور سچے عاشقِ رسول مفکر کی شخصیت پر کیچڑ اچھالنے کی انتہائی بھونڈی کوشش ہے۔

اگر تعصب اور سنسنی خیزی کی عینک اتار کر تاریخ کے مستند صفحات کی گرد جھاڑی جائے تو حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ علامہ اقبال کا نہ تو کوئی بیٹا کبھی قادیانی ہوا اور نہ ہی ان کا پورا خاندان کبھی اس سنگین گمراہ کن فتنے کا شکار ہوا۔ اصل معروضی حقیقت صرف اتنی سی ہے کہ علامہ اقبال کے بڑے بھائی شیخ عطا اور ان کے بیٹے شیخ اعجاز احمد یعنی علامہ کے بھتیجے ابتداء میں قادیانی تحریک کے باطل فریب سے متاثر ہوئے تھے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ انیس سو کے اوائل میں جب مرزا قادیانی نے ابھی علی الاعلان نبوت کا جھوٹا دعویٰ نہیں کیا تھا بلکہ خود کو محض ایک مناظرِ اسلام کے طور پر پیش کیا تھا، تو اس زمانے کے بہت سے سادھو طبع لوگ دھوکا کھا گئے تھے۔ لیکن جیسے ہی اس نے اپنے باطل عقائد اور خود ساختہ نبوت کا ڈنڈورا پیٹا، حق پرستوں نے اس سے یکسر برات کا اعلان کر دیا۔

اس کے برعکس، علامہ کے بھتیجے کے ایک ذاتی فیصلے کو بنیاد بنا کر آج کا گمراہ کن میڈیا پورے اقبال خاندان، اور بالخصوص ان کی صلب سے پیدا ہونے والے فرزندوں پر تہمتیں تراش رہا ہے۔ تاریخ کا سب سے بڑا سچ یہ ہے کہ علامہ اقبال کے فرزندِ گرامی ڈاکٹر جاوید اقبال رحمہ اللہ نے نہ صرف اس باطل فتنے کو مکمل طور پر رد کیا بلکہ اپنے والدِ گرامی کے حقیقی اسلام دوست اور ختمِ نبوت کے فکر و فلسفے کو دنیا کے سامنے اجاگر کیا۔ ڈاکٹر جاوید اقبال نے اپنی شہرہ آفاق اور تاریخی سوانح زندہ رود تحریر کر کے قادیانیت کا مکمل فکری ابطال کیا اور اس کتاب کے ذریعے علامہ اقبال کے عقائد، افکار اور اس فتنے کے خلاف ان کے تاریخی کردار کو ہمیشہ کے لیے روشن کر دیا۔ انہوں نے اس کتاب میں خاندانی پس منظر کی تمام سچائیاں طشت از بام کر کے دجالی اور گمراہ کن پروپیگنڈا کرنے والوں کا منہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیا۔

علامہ محمد اقبال رحمہ اللہ کی فکر و دانش کا پورا سرچشمہ قرآنی تعلیمات اور سچی حبِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر قائم تھا۔ وہ خوب جانتے تھے کہ نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والے دراصل امتِ مسلمہ کے شیرازے کو بکھیرنے اور برطانوی سامراج کا تسلط قائم رکھنے کے لیے ایک گہری سیاسی و مذہبی سازش کا حصہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انیس سو پینتیس میں جب قادیانیت کی زہرافتشانی بڑھ گئی تو علامہ اقبال نے اپنا تاریخی اور معرکہ الآراء مضمون اسلام اور احمدیت تحریر فرمایا۔ اس تحریر میں علامہ اقبال نے نہ صرف قادیانیت کے تمام فکری و روایتی مغالطوں کا دھجیا اڑایا بلکہ انگریز سرکار سے ڈنکے کی چوٹ پر مطالبہ کیا کہ قادیانیوں کو قانوناً ملتِ اسلامیہ سے خارج کر کے ایک الگ اور غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ علامہ کا یہ جرات مندانہ اور واضح موقف اس بات کا بین ثبوت تھا کہ عقیدہ ختمِ نبوت پر کوئی بھی سمجھوتہ کرنا ان کے نزدیک ایمان کے خلاف تھا۔

علامہ اقبال کی لازوال شاعری، ان کے فلسفے اور فکر کا نقطہ آغاز اور نقطہ اختتام صرف اور صرف سید الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ بابرکت سے کامل وفاداری ہے۔ انہوں نے اپنے افکار سے امت کو سکھایا کہ جب تک یہ قوم دامنِ مصطفیٰ کو مضبوطی سے تھامے رکھے گی، دنیا کا کوئی بھی فتنہ اسے شکست نہیں دے سکتا۔ اپنے اسی ایقان اور ایمان کا اظہار انہوں نے اپنی لازوال نظم جوابِ شکوہ کے اس شہرہ آفاق شعر میں فرمایا:

کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

اس آفاقی اور حکمت سے بھرپور شعر میں علامہ اقبال نے باری تعالی کے ارشاد کا مفہوم یوں بیان فرمایا ہے کہ اے مسلمان! اگر تو اپنے قول، فعل، عقیدے اور طرزِ زندگی سے خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی، کامل اور بے غرض وفاداری نبھائے گا، ان کی سنت کی پاسداری کرے گا اور ان کی ختمِ نبوت کا چوکیدار بنے گا، تو کائنات کا خالق و مالک تیرے ساتھ ہوگا۔ پھر یہ ظاہری دنیا، اس کی عارضی چمک دمک، ناپائیدار حکومتیں اور دولت تو بہت معمولی اور حقیر چیزیں ہیں، کائنات کی تقدیر لکھنے والی لوح و قلم بھی تیرے اشاروں کی منتظر ہوگی اور تجھے دنیا و آخرت کی حقیقی امامت عطا کی جائے گی۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ ڈیجیٹل دور کے نام نہاد پروپیگنڈا ساز، ویوز کے پجاری اور سستی شہرت کے طالب چاہے جتنا بھی جھوٹ گھڑ لیں، تاریخ کے روشن اور مستند صفحات کو کبھی دھندلا نہیں سکتے۔ علامہ اقبال رحمہ اللہ اور ان کی سچی نسلیں بالخصوص ڈاکٹر جاوید اقبال عقیدہ ختمِ نبوت کی پاسبان تھیں، ہیں اور رہیں گی۔ انہوں نے اپنے علمی و فکری جہاد اور سوانح زندہ رود جیسے شاہکار سے باطل فتنوں کی جڑیں کاٹیں۔ آج اگر ہماری قوم اور نوجوان نسل کو فکری انتشار اور ڈیجیٹل گمراہی سے بچنا ہے تو ہمیں غیر مصدقہ ویڈیوز پر کان دھرنے کے بجائے تاریخ کا خود مطالعہ کرنا ہوگا اور علامہ اقبال کے پیغام کی روشنی میں دامنِ مصطفیٰ کو مضبوطی سے تھامنا ہوگا۔

پیر انتظار حسین مصور

پیر انتظار حسین مصور

السلام علیکم! امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔ میں پیر انتظار حسین مصور، ایک لکھاری کی حیثیت سے گزشتہ کچھ عرصے سے اردو ادب کے فروغ اور معاشرتی مسائل پر قلم فرسائی کر رہا ہوں۔ میرا کام باقاعدگی سے "ہم سب" اور "ڈیلی اردو کالمز" سمیت مختلف ادبی فورمز پر شائع ہوتا رہا ہے، جبکہ میں اپنا ذاتی بلاگ بھی باقاعدگی سے لکھتا ہوں۔