کہانی کچھ عجیب ہے

از قلم صنم فاروق حسین

کہانی کچھ عجیب ہے۔
مگر دل کے بہت قریب ہے۔

کہتے ہیں پرانے وقتوں میں گھروں کے دروازے کھلے رہتے تھے۔
کوئی بھی دستک دیتا اور اندر آ جاتا، کوئی بھوکا نہیں سوتا تھا۔ ہمسائے ایک دوسرے کا دھیان رکھتے تھے۔ جو پکتا ہمسائے کے گھر پہلے بھیج دیتے۔

کہتے ہیں اگر اس زمانے میں کسی کے گھر کوئی مہمان آ جاتا تو وہ سب کا مہمان ہوتا۔ بستر بہت دور کی بات، ان مہمانوں کی خاطر گھر کے دروازے کھول دیے جاتے۔ اور مہمان نوازی ایسی کی جاتی کہ مہمان جاتے جاتے شکریہ گزاری کے آنسوؤں کے ساتھ جاتا۔

کسی کی بیٹی کی عزت ایسے کی جاتی تھی جیسے سب کی بیٹی کی عزت ہو۔ لوگ دعائیں دیتے تھے، خیال رکھتے تھے۔
ارد گرد سب ایک دوسرے کو جانتے تھے۔ سب ایک جیسے ہی تو تھے، نہ کوئی غریب نہ کوئی امیر، سب ایک جیسے!

کہتے ہیں اس زمانے میں کسی کے گھر میں شادی ایسے ہوتی جیسے سب کی بیٹی یا بیٹا ہو۔ خوشی، رونق، شراکت سب ایسے کرتے اپنی اپنی حیثیت کے ساتھ؛ سب شراکت داری کرتے۔
اور جب کوئی اس دنیا سے چلا جاتا تو پورا علاقہ سوگ میں ڈوب جاتا۔ ایسے دکھ کا سماں بن جاتا کہ کئی کئی دن سب سوگوار بن کر رہتے۔

اب کہاں ہیں وہ لوگ، وہ زمانے، وہ خلوص، وہ محبت؟
اب تو ساتھ والے گھر کوئی بھوکا سو جائے، کوئی بیمار پڑ جائے، یا کوئی اس دنیا سے چلا جائے… کسی کو خبر تب ہی ہوتی ہے جب باہر شور ہو۔ ورنہ کون کیا کر رہا ہے، کیا خبر!

انسان میں اتنی انسانیت ضرور ہونی چاہیے کہ سکھ میں نہ سہی، دکھ میں کھڑا ہوا جا سکے۔

اب ڈر لگتا ہے لوگوں کی ہوس سے، لالچ سے، شر سے، نفرت و عداوت سے۔ اب اپنے رقیب بھی کب نقیب بن جاتے ہیں، علم ہی نہیں ہوتا۔
وہ لوگ مخلص تھے، نیک تھے، دیندار تھے۔ اللہ کی برکت و رحمت تھی، وقت میں سکون تھا۔

اب یہ سب صرف ایک کہانی کا قصہ بن گیا۔ لوگ لوگوں کے دشمن ہیں، انسانیت ختم ہو گئی ہے، اب لوگ ڈرتے ہیں۔
اپنی عزت، خودداری، اپنی جان و مال، دین… سب کی خود حفاظت کرتے ہیں۔ اب تو سب سے اہم حفاظت اپنی اولاد کی ہے۔ دکھ ہوتا ہے نا یہ سب سوچ کر کہ اپنی اولاد بھی محفوظ نہیں، نہ اپنے لوگوں سے نہ غیروں سے۔

وہ زمانہ اچھا تھا نا! حیا تھی، احساس تھا، قدر تھی۔
اب سب ان لوگوں کے ساتھ ختم ہو گیا۔
وہ دور بھی، وہ لوگ بھی، وہ کہانی بھی…

اب بس رہ گئے قصے، افسانے اور باتیں۔

ازقلم

صنم فاروق حسین

عائشہ فاروق حسین

وابستہ ہے رب سے ذات ھماری ھماری روح کا جو سکون ھے۔ ذکر الہی کرنے میں رہنے والوں کا صنم رب سے الگ ہی عشقِ جنون ھے۔ رقیب تحریر