لباس کی شرعی حیثیت

ایک اردو تحریر از محمد یوسف برکاتی

میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں کو میرا سلام

پوشاک یا پہناوے کو لباس کہا جاتا ہے لباس انسان کی شخصیت کا آئینہ دار ہوتا ہے جناب امام راغب اصفہانی لباس کی تشریح کچھ ان الفاظوں میں کرتے ہیں کہ ” ہر وہ چیز جو انسان کی بری اور ناپسندیدہ چیز کو چھپالے اسے لباس کہتے ہیں ” جیسے شوہر اپنی بیوی اور بیوی اپنے شوہر کو بری چیزوں سے چھپا لیتی ہے، وہ ایک دوسرے کی پارسائی کی حفاظت کرتے ہیں اور پارسائی کے خلاف چیزوں سے ایک دوسرے کے لیے رکاوٹ ہوتے ہیں اس لیے انھیں ایک دوسرے کا لباس کہا گیا ہے قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہوا ہے کہ
هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَ اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّؕ
وہ (بیویاں ) تمہارا لباس ہیں اور تم ان کا لباس ہو
سورہ بقرہ 187
ہماری آج کی تحریر اسی موضوع پر ہے کہ شریعت میں مردوں کو اور عورتوں کو کیسا لباس پہننے کا حکم دیا ہے اور آج کے معاشرے میں کیسا لباس پہنا یا پہنتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے لباس کے متعلق حضرت امام راغب اصفہانی کی جو تشریح آپ نے اوپر پڑھی یہ تشریح اتنی واضح اور دلکش ہے کہ آپ کے ہر عیب اور ہر ظاہری برائی کو جو دوسروں کے لیئے ناپسندیدہ ہوسکتا ہے اس کو چھپانے کا مؤثر ذریعہ آپ کا لباس ہے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی ایک اور آیت میں ارشاد فرمایا کہ
یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَیْكُمْ لِبَاسًا یُّوَارِیْ سَوْاٰتِكُمْ وَ رِیْشًاؕ-وَ لِبَاسُ التَّقْوٰىۙ-ذٰلِكَ خَیْرٌؕ-ذٰلِكَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ(26)
ترجمعہ کنزالایمان ۔۔
اے آدم کی اولاد بیشک ہم نے تمہاری طرف ایک لباس وہ اُتارا کہ تمہاری شرم کی چیزیں چھپائے اور ایک وہ کہ تمہاری آرائش ہو اور پرہیزگاری کا لباس وہ سب سے بھلا یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے کہ کہیں وہ نصیحت مانیں۔
( سورہ اعراف 26 )
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے آدم کی اولادوں یعنی وہ رب العزت ہم سے مخاطب ہے کہ ہم نے تمہارے لیئے تین طرح کے لباس اتارے ایک وہ جو تمہارے عیب اور برائی کو چھپائے دوسرا وہ جو تمہارے لیئے زینت کا باعث بنے جبکہ تیسرا لباس تقویٰ کا لباس ہے پرہیز گاری کا لباس جو تمہارے لیئے سب سے بہتر ہے اگر سمجھو تو اسلامی تعلیمات کے مطابق، ظاہری لباس ستر پوشی اور خوبصورتی کے لیے ضروری ہے، لیکن باطن کی پاکیزگی اور خدا کا خوف انسان کا بہترین روحانی لباس ہے اور ایسے لباس کو ہی تقوی یعنی پرہیز گاری کا لباس کہا گیا ہے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں لباس انسان کی بنیادی ضروریات میں سے ایک ضرورت ہے لیکن وجود دنیا سے انسان کا لباس کبھی بھی ایک نہیں رہا جیسے جیسے انسانی تہذیب ترقی کرتی گئی ویسے ویسے اس کے لباس میں بھی تبدیلی آتی گئی اسلام کے ابتدائی دور میں انسان کا لباس کیسا تھا اگر ہم یہ دیکھتے ہیں تو ہمیں انبیاء کرام علیہم السلام کی طرف سے کچھ اشارے ملتے ہیں ایک اشارہ جب ملتا جب حضرت سلیمان علیہ السلام کے سامنے ملکہ بلقیس کی پنڈلی اس وقت کھل گئی جب وہ حضرت سلیمان علیہ السلام سے ملنے ان کے محل پہنچی تو دیکھا کہ وہاں ایک شیشے کا فرش ہے جس کے نیچے پانی تھا اور مچھلیاں تیرتی ہوئی نظر آتی تھی ملکہ سمجھی کہ یہ پانی ہے تو اس نے اپنی تہمند اونچی کرلی جس کی وجہ سے پنڈلیاں نظر آنے لگی یہ واقعہ سورہ نمل ( Al.namal) میں موجود ہے دوسرا وقعہ حضرت موسیٰؑ اور حضرت شعیب علیہ السلام کی دختر نیک اطوار کا ہے ،کہ جب وہ موسیٰ علیہ السلام کو رہنمائی فرما رہی تھی یہ واقعہ سورہ القصص کی آیات 26,27,28 میں موجود ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سامنے حضرت شعیب کی بیٹی اس وقت آگئیں جب وہ کنویں سے ایک مظبوط پتھر کو ہٹانے کی کوشش کررہی تھیں حضرت موسیٰ علیہ السلام جب وہاں پہنچے تو فرمایا کہ آپ ہٹ جائو اور پھر انہوں نے تنہا وہ پتھر اٹھالیا اور پھر فرمایا کہ تم میرے پیچھے چلو اور مجھے راستہ بتانے میں میری رہنمائی کرنا کیونکہ ہم عورتوں کو پیچھے سے نہیں دیکھتے نہ جانے کب ان جسم سے ہوا کی بدولت کپڑا ہٹا جائے اور جسم کوئی حصہ ظاہر ہو جائے حضرت شعیب علیہ السلام کی بیٹی نے اپنا ہاتھ اپنے منہ پر رکھ کر منہ کو چھپایا ہوا تھا اور ان کے پیچھے پیچھے چلی گئی یہاں بھی کپڑے کا ذکر ہمیں ملتا ہے اسی طرح تیسرا اشارہ ہمیں حضرت یوسف علیہ السلام کا سورہ یوسف میں ملتا ہے لباس کے متعلق سورہ یوسف میں چار جگہ پر ملتا ہے ایک آیت نمبر 18 میں کہ جب حضرت یوسف علیہ السلام کو ان کے بھائیوں نے کنویں میں ڈال دیا تو وہ اپنے باپ سے یہ بات چھپانے کے لیئے دوڑے ہوئے گھر کی طرف آئے آیت نمبر 18 میں ارشاد ہوا کہ ” انہوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کے کرتے پر جھوٹا خون کا دھبہ لگا دیا تھا ” اسی طرح جب مصر کے ایک شخص نے حضرت یوسف علیہ السلام کو اپنے گھر میں پناہ دی اور عورت سے کہا کہ اس کی حفاظت کا زمہ تمہارے سر ہے لیکن وہ عورت حضرت یوسف علیہ السلام کے حسن پر پاگل ہوگئی اور شیطانی وسوسے نے اس کو غلط کام پر ابھارا اس کا ذکر آیت 25 میں اس طرح آیا ترجمعہ کہ ” اور دونوں دروازے کی طرف دوڑے اور عورت نے اس کا کُرتا پیچھے سے چیر لیا ” اس واقعہ کی تفصیل سورہ یوسف میں موجود ہے اسی طرح کپڑوں کا ذکر سورہ المدثر کی آیت 4 میں کچھ اس طرح آیا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہوا کہ
وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ
ترجمعہ کنزالایمان ۔۔
اپنے کپڑے پاک رکھو ( سورہ المدثر 4)
یہاں بتانا یہ مقصود تھا کہ پہلے کے لباس میں تہمند ، کرتا ، پجامہ کا ذکر ہمیں ملتا ہے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں انسان کی امتیازی خوبیوں میں سے ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے پابندِ لباس بنایا ہے اسی وجہ سے وہ پیدائش کے دن سے ہی کسی نہ کسی لباس میں لپیٹ دیا جاتا ہے پھر یہ سلسلہ اس کی وفات پر بھی ختم نہیں ہوتا بلکہ اسے قبر میں اتارتے وقت سفید لباس میں ملبوس کرکے ہی اتارا جاتا ہے، گویا لباس انسان کا ایک اہم جزو ہے اور یہی چیز انسان کو دوسرے حیوان سے ممتاز کرتی ہے ۔ آیئے اب ہم ذرا اس طرف نظر دوڑاتے ہیں کہ آج کے معاشرے میں لباس کا استعمال کس طرح ہوتا ہے اور آج کے اس معاشرے میں استعمال ہونے والے لباس کے بارے میں قرآن اور حدیث نے چودہ ساڑھے چودہ سال پہلے ہی کیا فرمایا تھا ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں ہمارے آج کے معاشرے میں جب ہم عورتوں اور مردوں کے زیب تن کیئے ہوئے لباس کی طرف نظر دوڑاتے ہیں تو سوائے افسوس کے کچھ دکھائی نہیں دیتا کیونکہ اگر ہم عورتوں کی بات کرتے ہیں تو آج کی عورتیں صرف عریاں لباس ہی نہیں پہنتی بلکہ اپنے آپ کو دوسروں کے سامنے اجاگر کرنے کے لیئے وہ اقدام اٹھا لیتی ہیں جس کی شرعیت میں سختی سے ممانعت کی گئی ہے اسلامی تاریخ میں موجود عورتوں کے لباس کو چھوڑ کر مغربی طور طریقے اپناتے ہوئے ان کے جیسا لباس پہن کر اسے فیشن کا نام دیتی ہیں جو دراصل شیطان کا ایجاد کردہ نام ہے حالانکہ فیشن کرنے کی ممانعت نہیں ہے بلکہ فیشن وہ ہونا چاہیئے جس سے شرعیت کی خلاف ورزی نہ ہو یعنی لباس ڈھیلا ڈھالا ہو اتنا چست نہ ہو کہ جسم کے اعضاء واضح دکھائی دیتے ہوں لباس کا کپڑا موٹا ہو باریک نہ ہو کہ جس کو پہنچ کر جسم کی نمائش کا اندیشہ ہو مکمل طور پر پردہ ہونا چاہیئے اگر اچھے کپڑے فیشن کے مطابق پہن کر اچھی طرح سے تیار ہو تو صرف اپنے مزاجی خدا کے لیئے دوسروں کو دکھانے کے لیئے نہیں جبکہ سب سے اہم اور نمایاں بات یہ کہ مردوں کے لباس کی مشابہت نہ ہو اگر ان تمام باتوں کا خیال رکھتے ہوئے ایک عورت فیشن کرنا چاہے تو کرسکتی ہے ۔۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں صحیح بخاری کی ایک معروف حدیث ہے ام سلمہ رضی اللہ عنہا اسے روایت کرتی ہیں کہ ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیدار ہوتے ہی فرمایا کہ سبحان اللہ! آج کی رات کس قدر فتنے اتارے گئے ہیں اور کتنے ہی خزانے بھی کھولے گئے ہیں۔ ان حجرہ والیوں کو جگاؤ۔ کیونکہ بہت سی عورتیں (جو) دنیا میں (باریک) کپڑا پہننے والی ہیں وہ آخرت میں ننگی ہوں گی۔۔ (صحیح البخاری 115)
اس حدیث مبارکہ میں سرکار مدینہ حضور ﷺ نے چار چیزوں کا ذکر کیا ہے ” نازل ہونے والے فتنے ”
” کھولے گئے خزانے ” ” حجرہ والیوں ” اور ” باریک کپڑے پہننے والیوں ” کا اب ہم دیکھیں کہ فتنوں کا ذکر اس لیئے کیا گیا کہ انسانوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائشیں اور مصیبتیں فتنوں کی شکل میں نازل ہوتی ہیں لیکن جب انسان اس پر صبر کرتا ہے تو اس کے لیئے خزانوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں مال و دولت جیسی بیشمار نعمتیں اسے حاصل ہوتی ہیں اور جب فتنے نازل ہوتے ہیں تو اس وقت فوراً اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف ہو جانا چاہیئے اسی لیئے سرکار مدینہ حضور ﷺ نے حجرہ والیوں یعنی ازواج مطہرات کو اٹھانے کا حکم دیا کہ ایسے موقع پر دعا استغفار اور عبادت کرنی چاہیئے کیونکہ فتنوں سے حفاظت بھی رب تعالیٰ ہی فرماتا ہے جبکہ انہی فتنوں پر ان عورتوں کا بھی ذکر کیا جو دنیا میں لباس پہنتی تو ہیں لیکن اتنا باریک کہ ان کا جسم صاف نظر آتا تھا وہ بروز محشر ننگی ہوں گی ایسی عورتیں جو لباس تو پہنتی ہیں لیکن لباس باریک، تنگ یا جسم کی بناوٹ ظاہر کرنے والا ہوتا ہے۔ظاہری طور پر وہ ملبوس ہوتی ہیں، مگر حقیقت میں ستر پوری طرح نہیں ڈھکا ہوتا۔ یہ وہ عورتیں جنہیں دنیا میں مال و آسائش حاصل ہو، لیکن آخرت میں نیک اعمال سے محروم ہوں۔یعنی دنیا کی زینت تو ملی مگر آخرت کا لباسِ عزت نہ مل سکا ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں اسی طرح جب ہم مردوں کے لباس کی بات کرتے ہیں تو ہم آج کے معاشرے میں ہر عمر کے مرد خواہ وہ بچہ ہو نوجوان ہو جوان ہو یا ادھیڑ عمر زیادہ تر مغربی لباس میں ہی دیکھتے ہیں یعنی پینٹ شرٹ شریعت میں پینٹ شرٹ پہننے کے بارے میں مختلف علماء کی الگ الگ رائے ہیں کچھ فرماتے ہیں کہ چونکہ جب کوئی شخص نماز کی ادائیگی کے لیئے مسجد میں داخل ہوتا ہے اور وہ نماز کی حالت میں رکوع و سجود کرتا ہے تو اس کے جسم کے کئی اعضاء اپنی شکل و صورت میں رہتے ہوئے ظاہر ہوتے ہیں لہذہ اس طرح نماز پڑھنا مناسب نہیں لیکن یہاں مجبوری کی حالت میں کچھ نرمی دی گئی ہے کہ جیسے کوئی سفر میں ہے یا کسی کی ملازمت کا معاملہ ہے مگر نرمی بھی شریعت کا پاس رکھتے ہوئے ہے یعنی اگر مجبوری میں پینٹ شرٹ پہننے کی ضرورت ہو تو وہ ڈھیلی ڈھالی ہو تاکہ رجوع و سجود میں جسم کے اعضاء محسوس نہ ہوں مگر ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ پینٹ شرٹ کے علاوہ آج کل ایک اور بلا ہمارے درمیان ” شارٹ ” کی شکل میں نظر آنے لگی ہے جسے پہن کر لوگ اس طرح گھومتے ہوئے نظر آتے ہیں جیسے کوئی مسئلہ نہیں بلکہ اللہ معاف کرے اس شارٹ کے چکر میں لوگوں نے ” چڈیاں ” پہن کر گھومنا شروع کر دیا ہے جبکہ حدیث کے مطابق مرد کا ستر ناف سے لیکر گھٹنے تک ہے جو چھپا ہوا ہونا چاہئے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں مسجد میں موجود ایک نوجوان کو جس نے شارٹ اور ٹی شرٹ پہنی ہوئی تھی میں نے کہا کہ اس لباس سے نماز نہیں ہوتی تو مجھے کہنے لگا کہ انکل ہو جاتی ہے آپ فکر نہ کریں دراصل ہمارے یہاں کچھ وہ باتیں جو علماء نے اجازت کے طور پر بیان کی انہیں توڑ مروڑ کر اپنی مرضی کی شریعت بنادی جاتی ہے اور پھر لوگ اپنی من مانی کرتے ہوئے اپنی نمازوں کو ضائع کر دیتے ہیں ہمارے علماء کرام نے یہ فتویٰ جاری کیا کہ ” ہر وہ لباس جسے پہن کر عام پبلک میں جایا جائے ایسے لباس کو پہن کر نماز ہو جائے گی ” لیکن اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت کسی نے محسوس نہیں کی مجھے اس نوجوان نے علما کرام کی اسی بات کو سامنے رکھتے ہوئے کہا کہ انکل نماز ہو جاتی ہے آپ فکر نہ کریں لیکن میرے نوجوانوں خدارا علماء کرام کی کہی ہوئی ان باتوں کو غور سے سنو پڑھو اس کے صحیح معنی اور تفسیر کی جانب توجہ دو ورنہ ایمان خطرے میں پڑ سکتا ہے اور نمازیں ضائع ہوں گی وہ الگ ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں میرا ان نوجوانوں سے سوال ہے کہ کیا آپ یہ ہی ٹی شرٹ اور شارٹ پہن کر اپنے آفس یا کاروباری جگہ پر جا سکتے ہیں ؟ یقیناً جواب نہیں ہوگا کیونکہ ایسا کرنے پر آفس کے لوگ اور مارکیٹ کو لوگ باتیں بنائیں گے باس ناراض ہوجائے گا کہ اس کو آفس میں صحیح کپڑے پہن کر آنے کی تمیز نہیں ہے لیکن جب آپ مسجد میں نماز کی ادائیگی کے لئے جاتے ہیں تو وہ بھی تو کسی کا گھر ہے اب بتائیں اس گھر کا باس یعنی اللہ تعالیٰ اگر آپ کے اس لباس سے ناراض ہوگیا تو کیا آپ کی نماز کو وہ اپنی بارگاہ میں قبول کرے گا ہر گز نہیں تو پھر آپ کی نماز تو ضائع ہوگئی نا ؟ اچھے صاف ستھرے کپڑے پہن کر خوشبو لگا کر نماز کی ادائیگی کے لیئے جائیں اور خشوع و خضوع کے ساتھ نماز پڑھیں تو اللہ تعالیٰ بھی خوش ہوگا اور اس کے فرشتے بھی ۔ اسی طرح کئی لوگوں کو نماز بغیر ٹوپی کے پڑھتے ہوئے بھی دیکھا جاتا ہے جو غالباً ٹوپی پہننا ضروری نہیں سمجھتے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں نماز کے لیئے جس لباس کا شریعت میں حکم ہے اس میں سر پر ٹوپی کا ہونا بھی لباس کا ایک اہم جزو ہے اور یہ لباس کا ہی حصہ ہے یہاں پھر میں وہ ہی بات کروں گا کہ ٹوپی نہ پہن کر نماز پڑھنے سے نماز تو ہو جائے گی لیکن یہ ادب کے خلاف ہے ہمارے یہاں لوگ فرض ، سنت اور نفل کی باتیں تو کرتے ہیں لیکن ادب کی بات نہیں کرتے جبکہ ادب کی اہمیت سب سے زیادہ اپ کے پاس ادب ہوگا تو آپ فرض کی ادائیگی کو احسن طریقے سے کرسکتے ہیں
سیدنا عبدالرحمن بن القاسم فرماتے ہیں کہ میں نے امام مالک کے سامنے 20 سال زانوئے تلمذ تہہ کیا، اس عرصہ میں انہوں نے مجھے 18 سال ادب سکھایا اور صرف 2 سال علم سکھایا۔ بعد ازاں میں پچھتانے لگا کہ کاش وہ 2 سال جو میں نے علم سیکھنے میں صرف کیے، وہ سال بھی میں ادب سیکھنے میں صرف کرتا۔۔۔۔ ( تعلیم المتعلم )
یعنی انہیں معلوم ہوا کہ علم کے حصول میں سب سے بنیادی چیز ادب ہے اگر ادب نہیں تو کچھ نہیں سارا علم دھرا کا دھرا رہ جائے گا ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں اسلام میں مردوں اور عورتوں کو ایک دوسرے کی مشابہت کرنے کی بجائے اپنے اپنے لباس کا حکم دیا ہے جو شرعی اعتبار سے مناسب اور اسلام کی صحیح عکاسی کرتا ہے لہذہ مغربی لباس پہن کر مغربی لوگوں کی طرح اپنی زندگی کے راستوں کو اپنانے کی بجائے اپنے اسلاف کی زندگیوں کا مطالعہ کریں ان کے شرعی لباس کو اپنانے کی کوشش کریں تاکہ اللہ تعالیٰ بھی آپ کے اس عمل پر خوش ہو اور اس کے رسول حضور اکرم ﷺ بھی خوش ہوں اور اللہ رب العزت اس پر آپ کو دنیا اور آخرت میں اجر عظیم عطا فرمائے آمین ۔
جناب لباس انسان کی وہ پہچان ہے جو دوسروں کی نظر میں اس کی شخصیت کو اجاگر کرتا ہے لہذہ لباس وہ ہی زیب تن کیجیئے جو شریعت نے آپ کے لیئے مختص کیئے ہیں نہ کہ وہ جو مغرب نے آپ کو دکھائے ہیں اسی میں ہماری اصل پہچان ہے آخر میں ہمیشہ کی طرح الیہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ مجھے سچ لکھنے ہمیں پڑھنے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ مجھے دعاؤں میں خاص طور پر یاد رکھیئے گا ۔

محمد یوسف میاں برکاتی