میری خوش فہمی تھی

میر حسن کی ایک اردو غزل

میری خوش فہمی تھی کہ تم مجھے یاد کرو
جاؤ، اب جا کے کسی اور کا گھر آباد کرو

میں نے چاہا تھا تمہیں، کوئی تجارت تو نہ تھی
اب محبت کا نہ مجھ سے کوئی حساب کرو

میں بڑے کام کا ہوں، یوں نہ برباد کرو
اپنی یادوں سے مجھے اب تو آزاد کرو

تم کو حق ہے کہ نئی راہ چنو، خوشیاں پاؤ
بس مری ذات کو قصہ نہ بنا، یاد کرو

میں نے ہر حال میں چاہا ہے تمہیں، جانِ وفا
تم بھی اک بار تو اس بات کا اقرار کرو

جو کبھی خواب سجائے تھے تمہارے ہم نے
ان کی تعبیر سے تم اپنا جہاں آباد کرو

اب نہ شکوہ ہے، نہ کوئی گلہ باقی تم سے
اپنی دنیا میں رہو، اپنی خوشی ایجاد کرو

اور پرانا عشق ہے حسنؔ کو نئے زمانے میں
اس سے کہہ دو کہ محبت کو نہ برباد کرو

میر حسن

میر حسن

میر حسنؔ ۔ منڈی بہاؤالدین ۔ اردو سے محبت ہے اور احساسات کو شعر میں ڈھالنے کا شوق ہے۔ جو بات زبان کہنے سے رہ جائے، اسے قلم کے سپرد کر دیتا ہوں۔ محبت، ہجر اور زندگی کے اَن کہے احساسات میری شاعری کا محور ہیں۔

تبصرے دیکھیں

  • بہت خوبصورت الفاظ ، احساس کی گہرائی اور جذبات کی خوبصورتی قابلِ تعریف ہے ۔
    ایسی خوبصورت تخلیقات کا سلسلہ ہمیشہ جاری رکھیں۔ بہت سی دعائیں اور نیک تمنائیں💐

  • کسی کا یوں بے لوث چاہنا نصیب والوں کو ملتا ہے۔ ❤️ یہ غزل پڑھ کر بس یہی احساس ہوا کہ سچی محبت کو کھونا شاید سب سے بڑا خسارہ ہے۔☺️