جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا

میر حسن کی ایک اردو غزل

جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
وہ بھلا چاند ستاروں کو کہاں دیکھتے ہیں

یوں مری آنکھ میں ٹھہرا ہے سراپا تیرا
جیسے اوقات سے بڑے، لوگ خواب دیکھتے ہیں

تیری چاہت نے عجب رنگ دیا ہے دل کو
لوگ آئینہ، ہم آئینے میں تجھے دیکھتے ہیں

لوگ کہتے ہیں کہ مہتاب حسیں ہے کتنا
ہم تجھے دیکھ لیں تو چاند کہاں دیکھتے ہیں

زندگی کی الجھن کچھ یوں بھی سلجھ جاتی ہے
تیرے ہمراہ جو ہم آج سے کل دیکھتے ہیں

حسنؔ اشعار میں تصویر بناتا ہے تری
لوگ ہر شعر میں اک عکس ترا دیکھتے ہیں

میر حسن

میر حسن

میر حسنؔ ۔ منڈی بہاؤالدین ۔ اردو سے محبت ہے اور احساسات کو شعر میں ڈھالنے کا شوق ہے۔ جو بات زبان کہنے سے رہ جائے، اسے قلم کے سپرد کر دیتا ہوں۔ محبت، ہجر اور زندگی کے اَن کہے احساسات میری شاعری کا محور ہیں۔

تبصرے دیکھیں

  • کیا خوبصورت انداز بیان ہے ۔
    الفاظ میں محبت کی گہرائی اور جذبات کی سچائی صاف محسوس ہورہی ہے۔
    بہت خوب، آپ کی تخلیقی صلاحیت واقعی قابل داد ہے۔ بہت ساری دعائیں اور نیک تمنائیں 💐۔

  • بہت خوبصورت اور دل کو چھو لینے والی غزل ہے۔ ہر شعر میں محبت کی ایک الگ کیفیت محسوس ہوتی ہے، خاص طور پر الفاظ نے غزل کو بہت دلکش بنا دیا ۔ ❤️✨