حبیب جالب : عوام کا شاعر اور انقلابی سوچ

مصنف : پیر انتظار حسین مصور

تاریخِ ادب میں جب بھی حق، سچ اور بے باکی کا ذکر آتا ہے، تو ذہن میں ایک ہی نام گونجتا ہے اور وہ ہے حبیب جالبؔ۔ جالب صرف ایک شاعر کا نام نہیں، بلکہ وہ اپنے دور میں جبر و استبداد کے سامنے تن کر کھڑی ہو جانے والی ایک توانا حقیقت کا نام ہے۔ انہوں نے کبھی شاہی درباروں کی مصلحت پسندی کو قبول نہیں کیا اور نہ ہی کبھی وقت کے مقتدر حلقوں کے سامنے اپنے قلم کا سودا کیا۔ ان کا سرمایہ تو وہ غریب کسان، مزدور اور عام انسان تھے جن کی آواز بن کر انہوں نے عمر بھر جدوجہد کی۔
جالب صاحب کی زندگی کا سب سے بڑا حسن ان کا وہ نڈر لہجہ تھا جو ہر دور کے جابر حکمران کے لیے ایک للکار بن کر ابھرا۔ ان کی اسی جراتِ رندانہ اور مظلوموں کے لیے تڑپ کا ایک یادگار واقعہ تاریخ کے صفحات میں درج ہے، جب پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے شاہِ ایران کے اعزاز میں گورنر ہاؤس لاہور میں ایک بڑی تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا۔ اس وقت کے جابر اور طاقتور گورنر نواب آف کالا باغ نے اس دور کی مایہ ناز اور مقبول اداکارہ ‘نیلو’ کو سرکاری محفل میں رقص کرنے کا حکم دیا۔ نیلو نے اپنی غیرتِ نفس اور خودداری کی خاطر اس شاہی حکم کے سامنے جھکنے سے صاف انکار کر دیا۔
اس انکار کی پاداش میں مقتدر حلقوں کی طرف سے ان پر شدید ظلم و ستم ڈھایا گیا، انہیں ہراساں کیا گیا اور عقوبت خانوں کی صعوبتوں سے ڈرایا گیا۔ جب یہ پورا واقعہ عوامی شاعر حبیب جالب کے علم میں آیا، تو ان کا انقلابی خون کھول اٹھا اور انہوں نے نیلو کی اس تاریخی جرات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے ایک شاہکار نظم لکھ ڈالی۔ بعد میں یہی نظم ہدایت کار ریاض شاہد کی معرکتہ الآرا فلم ‘زرکا’ کا سب سے لازوال گیت بنی، جسے خود اداکارہ نیلو پر ہی فلمایا گیا اور یہ گیت تاریخ کا حصہ بن گیا:
تو کہ ناواقفِ آدابِ غلامی ہے ابھی
رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے
تجھ کو انکار کی جرات جو ہوئی ہے تو نہ ڈر
خنجرِ ظلم کی دھاروں پہ مچل کر دکھلا
موت کے سامنے ہنسنے کا سلیقہ سیکھو
اشک پینے کا ہنر سیکھ کے آہ و فغاں
توڑ دے ظلم کی دیوار کو ہنس کر دکھلا
رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے
اهلِ ثروت کی یہ محفل ہے، یہاں کیا کہنا
یہاں انساں کی توقیر کہاں ہوتی ہے
یہاں جذبوں کی کوئی قدر نہیں کرتا ہے
یہاں غیرت کی کوئی بات کہاں ہوتی ہے
ان کے چہروں کی حماقت کو ذرا ہنس کے بتا
رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے
زندہ رہنے کی تمنا ہے تو اے جانِ حیات
ظلم کی آنکھ میں آنکھیں تو ملا کر دیکھو
جسم مرتا ہے تو مر جائے، مگر اے ناداں
روح مرتی ہے تو پھر خاک جیا جاتا ہے
اپنے ہونٹوں پہ تبسم کو سجا کر دیکھو
رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے
حبیب جالب کی یہ نظم اور ان کا یہ جذبہ ہمیں سکھاتا ہے کہ سچے لکھاری کا کام مصلحت پسندی کی چادر اوڑھنا نہیں، بلکہ ہر دور میں مظلوم کا ساتھ دینا اور جابر کے سامنے کلمہِ حق بلند کرنا ہے۔ آج کے دور میں بھی جب قلم کاروں کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے، جالب کا فکرِ انقلابی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ خدا کرے کہ ہمارے دور کے لکھاریوں میں بھی جالب جیسا اخلاص، جرات اور سچائی پیدا ہو تاکہ معاشرے کے اندھیروں کو مٹایا جا سکے۔ آمین۔

پیر انتظار حسین مصور

پیر انتظار حسین مصور

السلام علیکم! امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔ میں پیر انتظار حسین مصور، ایک لکھاری کی حیثیت سے گزشتہ کچھ عرصے سے اردو ادب کے فروغ اور معاشرتی مسائل پر قلم فرسائی کر رہا ہوں۔ میرا کام باقاعدگی سے "ہم سب" اور "ڈیلی اردو کالمز" سمیت مختلف ادبی فورمز پر شائع ہوتا رہا ہے، جبکہ میں اپنا ذاتی بلاگ بھی باقاعدگی سے لکھتا ہوں۔