تری تلاش مجھے ہر سمے لگی ہوئی ہے

تجدید قیصرکی ایک اردو غزل

تری تلاش مجھے ہر سمے لگی ہوئی ہے
لگا ہے خیمہ بھی اور آگ بھی جلی ہوئی ہے

ترے ہی جسم سے نکلی ہوئی ہے روح مری
ترے ہی نام سے مٹی مری گندھی ہوئی ہے

سمندروں کی طرح بہہ رہے ہیں حرف ترے
تری دعا میرے اوراق پر لکھی ہوئی ہے

میں تیرے پیروں کی مٹی سے پاک ہو رہی ہوں
کہ میری روح تری راہ پر چلی ہوئی ہے

ترا کلام میری زندگی کا سایہ ہے
تری نگاہ مری روشنی بنی ہوئی ہے

تجدید قیصر