درد کی سرحد سے دل بھی

ایک اردو غزل از اویس خالؔد

درد کی سرحد سے دل بھی متصل ہی ہو گیا
اس محبت میں یہ سادہ دل خجل ہی ہو گیا

دنیا کی جس تہ میں ہوتا کھوج لاتے اس کو ہم
کیا کریں وہ اس جہاں سے منتقل ہی ہو گیا

زندگی کا تجربہ ہے درد کے بارے میں یہ
جس کو سمجھا عارضی وہ مستقل ہی ہو گیا

اب نہ شوخی نے شرارت اور اداسی بھی نہیں
اس سے مل کر شوخ دل بھی معتدل ہی ہو گیا

دیکھا اس نے مسکرا کے مجھ کو خالد ایک بار
جذبۂِ شکوہ شکایت مندمل ہی ہو گیا

اویس خالد