دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

ایک اردو غزل از رشید حسرت

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے چور نہیں
ہے دوش میرا، ترا کوئی بھی قصور نہیں

ملے گی داد بھی تنقید بھی تو ہو گی میاں
جو نیک مشورہ دیتا ہے اس کو گُھور نہیں

بٹھایا کس نے تمہیں مسندِ صدارت پر
وہ جس کو خود بھی ابھی شعر کا شعور نہیں

بہت سے شعر تھے اچھے تو کچھ برے بھی تھے
منانا سچ کا کبھی تم برا حضور نہیں

یہ اور بات کہ چپ چاپ ہم تھے ایک طرف
پکڑ پہ آئیں تو فن آپ کا بھی دور نہیں

وہ جس نے اپنے بزرگوں کو روند ڈالا ہے
وہ نہرِ فن کو کبھی کر سکا عبور نہیں

یہ بات یونہی نہیں کی ہے کچھ ثبوت بھی ہے
چمکنے والے سبھی چہرے پاک نور نہیں

سبھی پجاری ہوئے آج اجلے چہروں کے
کہیں پہ موسیٰؔ نہیں ہے، کہیں پہ طورؔ نہیں

پڑھے جو شعر مرے سب کو موت چاٹ گئی
رشیدؔ دل سے نکالا، رکھا فُتُور نہیں


رشید حسرتؔ، کوئٹہ
۰۴ اپریل، ۲۰۲۶

رشید حسرت

رشید حسرت نے 1981 سے باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا۔ ان کی شاعری اخبارات، ادبی رسائل اور کل پاکستان و کل پاک و ہند مشاعروں میں شائع اور پیش ہوتی رہی۔ پی ٹی وی کوئٹہ کے مشاعروں میں ان کی شرکت ان کی تخلیقی شناخت کا آغاز تھی، مگر بعد میں انہوں نے اجارہ داریوں اور غیر منصفانہ رویّوں سے تنگ آ کر اس نظام سے علیحدگی اختیار کی۔ ان کے پانچ شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ سب کے سب اپنی ذاتی جیب سے، جو ان کے خلوص اور ادب سے والہانہ لگاؤ کی علامت ہیں۔ رشید حسرت اس طبقے کے نمائندہ شاعر ہیں جنہوں نے ادب کو کاروبار نہیں بلکہ عبادت سمجھا۔