لپیٹوں گا میں آنکھیں اور صورت کھینچ لوں گا
ٹٹولو خود کو میں تم میں کہیں موجود ہوں گا
تمہارا جسم پُتلا اب بُرادا ہو رہا ہے
نئی اک طرز کا من موہنا تشکیل دوں گا
مری آواز کی تو گونج ہے کم فاصلے کی
بلاؤں گا میں خود کو خود توجہ سے سنوں گا
پیے ہیں اس نے سگرٹ بے تحاشہ، بے سلیقہ
ارادہ ہے کہ میں سب خیر خواہوں سے کہوں گا
کوئی میرا شناسا تو نہیں جو دے ضمانت
میں ابنے آپ سے الجھا اگر تو کیا کروں گا
مرے رشتوں کا ریشم کیوں الجھتا جا رہا ہے
کہاں تک اس طرح میں دردِ بے مہری سہوں گا
رشید اس بے زبانی نے نہیں چھوڑا کہیں کا
رہا ہوں اس طرح خاموش کہ جیسے ہو گُونگا
رشید حسرت، کوئٹہ