چلو کر نوں سے تھوڑی بات کر لیں
چلو پتوں کے آنسو پونچھتے ہیں
پرندے تتلیاں رخصت ہو ئی ہیں
عجب سہمی ہوئی سی اک فضا ہے
مناظر لُو سے جھلسے جا رہے ہیں
چمن کی رات چھوٹا آسمان جگنو، ستارے
سبھی چمگادڑوں نے کھا لیئے ہیں
گلوں کے قتل پہ شبنم کا گریہ
یہ گریہ حبس میں مفلوج سا ہے
چلو کرنوں سے تھوڑی بات کرلیں
مگر یہ چاند اب کیوں ہانپتا ہے
لرزتی روشنی یہ چاندنی ہے؟
چکوروں کے جنازے آ رہے ہیں
الہٰی قہر یہ تیر ا نہیں ہے
یہ میرے آئینے کی کرچیاں ہیں
ڈاکٹر عرفان احمد بیگ