ماتم

شہباز خواجہ کی ایک اردو نظم

اخبار کے صفحے الٹتے ہوئے
ٹی وی چینلز بدلتے ہوئے
خون کی ایک لکیر
صفحہ در صفحہ
چینل در چینل بہتی ہوئی
آنکھ کی پتلیوں میں جم جاتی ہے
ہاتھ میں پکڑے ہوئے نوالے بھی سرخ دکھائی دیتے ہیں
بے بسی کی تہوں سے سر اُٹھاتی بغاوت کہتی ہے
کہ لوح محفوظ کے سارے سُرخ صفحات مٹا دیں
اور
آسمان کا کوئی بخیہ اُدھیڑ کر
اُس جانب دیکھیں
کوئی صفِ ماتم ہے کہ نہیں!!!

شہباز خواجہ

شہباز خواجہ

قلمی نام: شہباز خواجہ اصل نام: خواجہ محمد شہباز راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ میٹرک اور ایف۔اے کے امتحانات راولپنڈی بورڈ سے، جبکہ بی۔اے، ایل۔ایل۔بی اور ایم۔اے اُردو کے امتحانات پنجاب یونیورسٹی سے پاس کیے۔ 2004 میں راولپنڈی سے وکالت کا آغاز کیا۔ 2006 سے لندن (برطانیہ) میں مقیم ہیں۔ برطانیہ میں وکالت کے شعبے سے وابستہ ہیں ۔ 2023 میں Lincoln’s Inn جیسے تاریخی ادارے سے بار ایٹ لاء (بیرسٹری) مکمل کیا۔ شاعری کا آغاز 1994 میں کیا اور اسی دوران مختلف معتبر ادبی جرائد میں کلام شائع ہوا۔ 1997 میں ریڈیو پاکستان راولپنڈی کے ادبی پروگرام میں بطور شاعر شرکت کی۔ فنون، چہار سو، ادب لطیف، نیرنگِ خیال، سمبل، کولاژ، ادبیات اور بیاض سمیت کئی رسائل میں شاعری چھپتی رہی۔ 2005 میں پہلا شعری مجموعہ “آنکھ خواب بُنتی ہے” شائع ہوا جسے ادبی حلقوں میں خاصی پذیرائی حاصل ہوئی ۔ ملک گیر ادبی تنظیم “سُخن ور” کے بانی اراکین میں شامل رہے اور پہلے جنرل سیکریٹری منتخب ہوئے۔ لندن میں ادبی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کرتے رہے۔ لندن منتقل ہونے کے بعد نامور ادیب ، شاعر اور نقاد جناب ساقی فاروقی سے قریبی تعلق قائم ہوا جو 2018 میں اُن کے انتقال تک برقرار رہا۔ شہباز خواجہ کا دوسرا شعری مجموعہ “گریز” 2021 میں شائع ہوا، جسے سنجیدہ ادبی حلقوں میں خاصی پذیرائی حاصل ہوئی۔ ذیل میں اُن کا منتخب کلام پیش ہے۔